اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 161
ازواج النبی 161 حضرت جویریہ رض اور یہ مسائل ابھی واضح نہ ہوئے تھے بلکہ آج بھی بعض لوگوں میں اس بارہ میں ابہام پایا جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔لونڈی سے مراد ہر وہ لونڈی نہیں جسے آج کل لونڈی کہا جاتا ہے۔بلکہ لونڈیوں سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جو رسول کریم میم کے مقابل پر حملہ کرنے والے لشکر کے ساتھ ان کی مدد کرنے کیلئے ان کے ساتھ آتی تھیں اور وہ جنگ میں قید کر لی جاتی تھیں۔تو اگر وہ مکاتبت کا مطالبہ نہ کریں تو ان کو بغیر نکاح کے اپنی بیوی بنانا جائز ہے یعنی نکاح کیلئے ان کی لفظی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔0 18 پس دور غلامی کے عرب میں ایک مفتوح قبیلہ کی لونڈی کو جب رسول اللہ صل تم نے آزاد کر کے شادی کی تو طبعا یہ سوال پیدا ہونا ہی تھا جیسا کہ فتح خیبر کے بعد جنگی قیدی حضرت صفیہ کو آزاد کر کے رسول اللہ صلی علی تیم نے جب ان سے عقد فرمایا تو صحابہ کو یہی سوال پیدا ہوا کہ وہ کنیز ہیں یاز وجہ کر سول؟ پھر سب صحابہ کا اس پر اتفاق ہوا کہ اگر تو حضرت صفیہ کو دیگر ازواج کی طرح پردہ کروایا گیا تو وہ زوجہ مطہرہ ہونگی ورنہ لونڈی۔جب حضور نے ان کو پردہ کروایا تو معاملہ واضح ہو گیا کہ آنحضور نے انہیں اپنے حرم میں شامل فرمایا ہے۔19 پس جنگی قیدیوں کے قدیم دستور سے ہٹ کر حضرت جویریہ کو رسول اللہ سلیم کا حق مہر ادا کرنا، ان کے لئے ازواج کی طرح پردہ کا اہتمام اور انکی باری کی تقسیم نے ان کے جنگی قیدی ہونے کے تمام خیالات کو یکسر رڈ کر دیا۔رسول اللہ علی ایم کے فیض صحبت سے پیدا ہو نیوالا انقلاب حضرت جویریہ قبول اسلام کے بعد حضور می ینم کی صحبت کی برکت سے اللہ تعالی سے محبت اور ذکر الہی کرنے والی اور اعلیٰ درجہ کی عبادت گزار بن گئیں۔حضرت جویریہ کی اپنی ایک روایت سے بھی اس کا اندازہ ہوتا ہے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ملی می کنیم ایک دفعہ گھر سے باہر تشریف لے گئے تو میں اس وقت صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد تسبیحات اور ذکر الہی کر رہی تھی، حضور نماز پڑھانے کے بعد صحابہ کے درمیان تشریف فرمار ہے اور پھر واپس تشریف لائے تو دن چڑھ چکا تھا اور میں اسی طرح مصلے پر بیٹھی تسبیحات اور ذکر الہی میں مشغول تھی۔