اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 143
ازواج النبی 143 حضرت زینب بنت جحش مجلس برخواست کرنے کے لئے اٹھتا ہے، لیکن بعض احباب پھر بھی بیٹھے رہے حتی کہ آنحضور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔حضرت زینب بنت جحش اسی کمرے میں دوسری طرف رخ کر کے ایک حیادار دلہن کی طرح بیٹھی ہوئی تھیں۔اسی موقع پر سورۃ احزاب کی آیت حجاب اتری۔جس میں دعوتوں وغیرہ کے موقع پر بعض دیگر احکام بھی ارشاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے مگر اس طرح نہیں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو لیکن (کھانا تیار ہونے پر ) جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہو اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور وہاں (بیٹھے) باتوں میں نہ لگے رہو۔یہ (چیز) یقینا نبی کے لئے تکلیف دہ ہے مگر وہ تم سے (اس کے اظہار پر ) شرماتا ہے اور اللہ حق سے نہیں شرماتا۔اور اگر تم اُن ( ازواج نبی ) سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ طرز عمل) ہے۔اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں (میں سے کسی) سے شادی کرو۔یقینا اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔(الاحزاب :54) احکام پردہ کا نزول اسی موقع پر آداب معاشرت کے علاوہ پر دے کے احکام بھی اترے۔جس کے بعد سے با قاعدہ پر دے کا رواج ہوا۔ولیمہ کے بارہ میں حضرت انس بن مالک کی ایک اور روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ حضور نے کسی بیوی کا ایسا ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب کا تھا۔اس پر حضور نے بکری ذبح کروائی۔0 دوسری روایات سے گوشت روٹی کے ساتھ میٹھا پیش کرنے کا بھی ذکر ہے۔حضرت انس کی ہی روایت ہے کہ اس شادی کے موقع پر میری والدہ حضرت ام سلیم نے مجھے کھیر وغیرہ کا ایک بڑا بر تن کھانے کے ساتھ پیش کرنے کے لئے بھجوایا اور مجھے کہا کہ حضور صلی عوام کی خدمت میں جاکر عرض کرنا کہ اس وقت ہمارے گھر میں میسر یہ حقیر تحفہ پیش خدمت ہے۔0 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضور نے مجھے لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لئے بھجوایا اور میں دس دس کی ٹولیوں میں انہیں بلا کر لایا جو اس کمرے میں آکر بیٹھتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے تھے۔ان کی تعداد تین سو 16 ย