اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 140
ازواج النبی 140 حضرت زینب بنت جحش کئی وساوس جاہلیت کے ازالہ کے لئے ان کے وجود کو وسیلہ بھی بنایا۔اور اسی موقع پر سورۂ احزاب میں ہی اللہ تعالی نے ہمارے نبی ا تم کو خاتم النبیین کے بلند روحانی مقام کا اعلان کرنے کیلئے پسند فرمایا۔رسول اللہ صلی یا تم سے شادی اور اسکی حکمت 8 جب حضرت زید کی طرف سے حضرت زینب کو طلاق کے بعد تین ماہ کی عدت گزر گئی تو اللہ تعالیٰ نے بعض اور رسوم جاہلیت کے خاتمہ کے لئے آنحضرت علی ی ی یتیم کو حضرت زینب کے ساتھ نکاح کی ہدایت فرمائی تاکہ ایک تو منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح نہ کرنے کی رسم جاہلیت کا قلع قمع ہو۔دوسرے عورتوں کے حقوق کو قائم کیا جائے۔اس منشاء الٹی کے پورا کرنے کے لئے حضور می یا تم نے یہ شاندار حکمت عملی اختیار فرمائی کہ اپنے وفادار منہ بولے بیٹے اور ساتھی حضرت زید کو بھی ہر قدم پر اس مشورے میں شریک رکھا۔بلکہ حضرت زینب کو شادی کا پیغام بھی انہیں کے ذریعہ بھجوایا۔حضرت زید خود بیان کرتے ہیں کہ حضرت زینب کی عدت طلاق ختم ہو جانے کے بعد حضور نے مجھے حضرت زینب کے ہاں شادی کا پیغام پہنچانے کا ارشاد فرمایا۔حضرت انس کی روایت کے مطابق جب حضرت زید نے حضرت زینب کے گھر جا کر اپنے آنے کی اطلاع دی وہ اس وقت آٹا گوندھ رہی تھیں۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میرے دل پر اس وقت ان کی عظمت و احترام کا ایک رعب غالب تھا کہ کس عظیم ہستی نے ان کے لئے پیغام بھجوایا ہے۔اس کیفیت میں پردہ کی خاطر میں ان کے گھر کی جانب پشت کر کے کھڑا ہو گیا۔حالانکہ ابھی پردہ کے احکام نہیں اترے تھے۔اور یوں آنحضرت طی می کنم کی طرف سے شادی کا پیغام انہیں پہنچایا۔حضرت زینب بنت جحش ایک تقویٰ شعار اور متوکل خاتون تھیں۔انہوں نے بھی کیا خو بصورت جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالی سے دعا اور استخارہ نہ کر لوں کوئی جواب نہیں دے سکتی۔چنانچہ وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ کھڑی ہو گئیں۔حضرت زینب بھی تسلی ہو جانے پر ان کے بھائی ابواحمد بن جحش ولی مقرر ہوئے۔اور چار صد در هم حق مہر پر آنحضرت علیه السلام کے ساتھ حضرت زینب کا نکاح ہوا۔یہ نکاح اس بدر سم کے خاتمہ کا عملی اعلان تھا کہ متبنی کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔9 10 یہاں یہ امر تحقیق طلب ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت زینب کی شادی کا واقعہ بیان کرنے والے راوی صحابی پندرہ سالہ حضرت انس کی روایت کس حد تک قابل قبول ہے۔جن کی درایت کے بارہ میں بھی محدثین