اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 124
ازواج النبی 124 حضرت ام سلمہ 19 در اصل آنحضور عالم کے حضرت ام سلمہ سے عقد کی وجہ ایک تو ان کی ذاتی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ ایک شارع نبی کی بیوی بننے کی اہل تھیں۔دوسرے وہ ایک بلند پایہ صحابی کی بیوہ تھیں اور صاحب اولاد تھیں جن کی وجہ سے ان کا خاص انتظام ضروری تھا۔ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رسول اللہ علیم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔اس لئے بھی حضور نے ان کے پسماندگان کا خیال رکھا۔حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر رسول اللہ لی تم سے نکاح کے لئے اپنی والدہ کے ولی بنے۔یہ شادی بہت سادگی کے ساتھ ہوئی۔حضور طلی کلیم نے ام سلمہ سے فرمایا کہ میں نے فلاں بی بی کو جو کچھ دیا تھا بلا کم وکاست وہ آپ کو بھی دوں گا یعنی آٹا پینے کی دو چکی، دو گھڑے اور گدیلا جس کے اندر کھجور کے نرم ریشے بھرے تھے۔حضرت ام سلمہ نے محض للہ ایثار و اخلاص کے ساتھ یہ مقدس رشتہ قبول کیا تھا اس میں کسی دنیوی طمع یا حرص کو دخل نہ تھا۔چنانچہ حضرت ام سلمہ سے رشتہ کے لئے بات چیت کے دوران جب حضور " نے فرمایا کہ اگر آپ ( دیگر ازواج کے مقابل پر) حق مہر میں اضافہ چاہیں تو ہم وہ بھی بڑھا دیں گے۔حضرت ام سلمہ نے کسی مرحلہ پر اس پیشکش سے بھی کوئی استفادہ پسند نہ کیا۔رسول کریم علیم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ سے شادی کے موقع پر آنحضرت لی ہم نے حضرت ام سلمہ سے فرمایا کہ میں نے نجاشی شاہ حبشہ کو جو تحائف بھجوائے ان میں مشک (کستوری)، خوبصورت لباس اور چادریں شامل تھیں۔اب جب کہ نجاشی کی وفات ہو گئی ہے وہ تحالف لا محالہ واپس آجائیں گے اور وہ میں تمہیں تحفہ میں دے دوں گا۔پھر وہ تحائف واپس آنے پر آپ نے رض 22 23 اپنا وعدہ پورا فرمایا۔دیگر ازواج کو بھی اس موقع پر آنحضرت لیلی لیا کہ ہم نے ایک ایک اوقیہ برابر مشک عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ام سلمہ کے حق میں رسول اللہ صلی لی ایم کی خاص دعا ایسے عجیب رنگ میں قبول فرمائی کہ ان کی ناواجب طبعی غیرت جاتی رہی۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ شادی کے بعد آنحضرت می کنم جب میرے ہاں تشریف لائے تو پہلے دن میں نے آپ کے لئے جو کے کچھ ستو اور کھاناوغیرہ تیار کر کے پیش کیا۔اس موقع پر بھی حضرت ام سلمہ کی ناواجب غیرت کے دور ہونے سے متعلق رسول اللہ کی قبولیت دعا کا عجیب نظارہ سامنے آیا۔حضور علی تم نے حضرت ام سلمہ کو شادی کے معا بعد دیگر ازواج کے ساتھ باری کے لئے اختیار دیا اور فرمایا کہ آپ کو اپنے خاوند کے ہاں ایک عزت کا مقام حاصل ہے۔اگر پسند کرو تو میں شادی