اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 121 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 121

ازواج النبی 121 حضرت ام سلمہ انہوں نے غزوہ بدر میں شامل ہونے کی توفیق پائی اور شجاعت کے جوہر دکھائے، غزوۂ احد میں بھی حضور کے ساتھ کمال وفا اور اخلاص کے ساتھ شرکت کی۔اور استقامت کا نمونہ دکھایا۔0 غزوہ اُحد میں حضرت ابو سلمہ کو ایک بہت گہر از خم باز و پر آیا تھا جو ایک عرصہ تک مندمل نہ ہوا۔تقریباً رض ایک ماہ کے علاج سے اچھا ہوا۔تیسرے سال ہجرت کے آخر میں حضور علیہ السلام نے حضرت ابو سلمہ کو ڈیڑھ سو سواروں کا امیر مقرر کر کے قطن کے پہاڑ کی طرف ایک مہم پر بھجوایا۔ایک مہینہ کے قریب آپ اس مہم پر رہنے کے بعد مدینہ واپس لوٹے تو دوبارہ وہی زخم ہر ا ہو گیا۔بالآخر اسی بیماری میں چوتھے سال ہجرت میں آپ کی وفات ہوئی۔رض آنحضرت الی نیم کا اپنے وفا شعار رفیق حضرت ابو سلمہ سے بہت ہی محبت اور پیار کا تعلق تھا۔ان کی وفات پر حضور عالم بنفس نفیس ان کے گھر تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے وہاں موجود لوگوں سے فرمایا کہ ابو سلمہ کے لئے یہ دعا کریں کہ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيَّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرُ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوَّرُ لَهُ فِيهِ 1211 یعنی اے اللہ ! ان کو بخش دے اور ان پر رحم کر اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ان کے پیچھے رہنے والوں میں تو خود ان کا جانشین ہو پھر آپ نے یہ دعا کی کہ "اے اللہ ! ان کی قبر کو کشادہ کر اور اس میں ان کے لئے نور بھر دے رسول اللہ لی کم کی اس دعا سے اپنے اس وفا شعار صحابی کے ساتھ آپ کی گہری محبت کا بھی پتہ چلتا ہے جو حضور علی یا تم کو تھی۔حضرت ابو سلمہ کی وفات کے بعد طبعاً آنحضرت طی یتیم کو ان کی بیوہ اور بچوں کی کفالت کے بارہ میں بھی فکر تھی۔ہمدردی کا یہی جذبہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھی اجا گر کر دیا تھا۔چنانچہ حضرت ابو سلمہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے حضرت ام سلمہ کو شادی کا پیغام بھیجا اور حضرت عمرؓ نے بھی۔لیکن حضرت ام سلمہ نے مختلف وجوہات کی بناء پر معذرت کر لی۔حضرت ابو سلمہ کے اخلاق فاضلہ حضرت ام سلمہ فرمایا کرتی تھیں کہ میرے میاں ابو سلمہ بہت محبت اور احسان کرنے والے شوہر تھے۔