اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 108
ازواج النبی 108 نضرت حفصہ 33 آنحضرت علی کریم نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بخار کی حدت بھی تو جہنم کی ایک جھلس اور لپٹ ہے۔0 دنیا میں پہنچنے والے دکھوں اور تکلیفوں کے ذریعے اللہ تعالی مومنوں کے گناہوں کا ازالہ کرتارہتا ہے اور ان مصیبتوں کو کوتاہیوں کے کفارہ کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔اور مومن کے بہت سے امتحانی مراحل اسی دنیا میں بآسانی طے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم ہی ہم نے فرمایا کہ بخار بھی جہنم کی ایک لپٹ ہی ہے۔حضرت حفصہ نے اپنے ذاتی شوق سے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔جس پر آنحضور طی نیم نے حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔چنانچہ ایک دفعہ ایک صحابیہ حضرت شفاء بنت عبداللہ زہریلے کیڑے کے کاٹنے کا دم آنحضرت لم تم کو بتارہی تھیں جو وہ عام طور پر کیا کرتی تھیں۔حضور عالم نے فرمایا یہ دم آپ حفصہ کو بھی سکھاد و جیسا کہ آپ نے انکو لکھنا پڑھنا بھی سکھایا ہے۔چنانچہ حضرت حفصہ نے وہ دم بھی ان سے سیکھا۔34 دیگر اعزاز و خدمات حضرت حفصہ کو حضور ملی ایلیا کی کمی کے ساتھ حجۃ الوداع میں بھی شرکت کی توفیق ملی۔اس کے بعض حالات 35 بھی آپ نے بیان کئے ہیں کہ کس طرح اس سفر میں آنحضرت نے تمام مناسک حج ادا فرمائے۔قرآن شریف کے لغت قریش میں جاری و قائم کرنے کے سلسلہ میں بھی حضرت عثمان کے ارشاد کی تعمیل میں حضرت حفصہ کا تعاون اور خدمات شامل ہیں۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں قرآن شریف کے جمع وتدوین کا کام تو حضرت زید بن ثابت اور صحابہ کی ایک کمیٹی کے ذریعہ مکمل ہوا۔جس کے صحیفے حضرت ابو بکڑ کے پاس رہے۔حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس یہ صحیفہ آیا اور ان کی وفات کے بعد حضرت حفصہ کے پاس موجود تھا۔حضرت عثمان کے زمانہ میں شام و عراق میں جنگوں کے دوران بہت سارے حفاظ بھی شہید ہو گئے اور شام و عراق کے لہجہ میں فرق کے باعث حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان کو قریش کی زبان میں قرآن جمع کرنے کی طرف توجہ دلائی تا کہیں یہود و نصاری کی طرح امت محمدیہ بھی اختلاف کا شکار نہ ہو جائے۔حضرت حفصہ کے پاس قرآن کے تحریری صحیفے موجود تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں کہلا بھیجا کہ آپ وہ صحیفے میرے پاس بھیج دیں ہم ان صحیفوں کو (قریش کی لغت کے مطابق) نقل کرا کر پھر آپ کو واپس کر دیں گے۔حضرت حفصہ نے یہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیج دیئے انہوں نے قریشی صحابہ سے نقل رض