اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 107 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 107

ازواج النبی 107 حضرت حفصہ کے بستر کی (جو پیشم کا تھا) مزید دو نہیں کر دیں۔معلوم ہوتا ہے اس پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے توازن بر قرار رکھنے میں دشواری ہوئی ہو گی۔جس پر آپ نے اسے پہلی حالت میں لوٹادینے کیلئے فرمایا۔علمی شوق اور ذوق تدبر قرآن حضرت حفصہ کے علمی ذوق کا جہاں تک تعلق ہے۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت طلی تم نے اپنے بدری صحابہ اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی تعریف کی۔بدر کے تین سو تیرہ اصحاب کے متعلق فرمایا کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُم فَقَد غَفَرتُ لکھ کہ اب جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔رسول اللہ علیمی کریم نے ایک موقع پر فرمایا کہ " ان باتوں کی وجہ سے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی بدریوں اور اہل حدیبیہ میں سے کسی کو دوزخ کی آگ میں نہیں ڈالے گا۔اگر اللہ چاہے تو مجھے امید ہے کہ ایسا ہی ہو گا "۔حضرت حفصہ نے اس بارہ میں ایک موقع پر سوال کیا یارسول اللہ تم پھر قرآن شریف کی اس آیت کا کیا مطلب ہے وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبَّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ( مریم : 72) کہ تم میں سے ہر ایک فرد کے لئے جہنم کو جھیلنا اور بھگتنا ضرور ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟'' آنحضرت طی تم نے کیا خوبصورت جواب دیا فرمایا "اے حفصہ ! کیا تم نے اس سے اگلی آیت میں یہ نہیں پڑھا۔ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فيها جیتا۔(مریم : 73) کہ جو تقویٰ اختیار کر نیوالے ہیں ان کو ہم نجات دے دیں گے۔اور جو ظالم ہیں جہنم میں پڑے رہ جائیں گے " حضرت مسیح موعود نے اس آیت کی یہ لطیف تفسیر بھی بیان کی کہ اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اس دنیا میں جو دارالابتلاء ہے انواع اقسام کے پیرایہ میں بڑی مردانگی سے اس نار میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالی کیلئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء و قدر بھی نار کی شکل میں ان پر وارد ہوتے ہیں وہ ستائے جاتے اور دُکھ دیئے جاتے ہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پر آتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کر سکتا۔بہر حال حضرت حفصہ جو قرآن شریف کی حافظہ تھیں وہ کس غور اور تدبر سے اس کا مطالعہ کرتی تھیں اس کا اندازہ اس سوال سے خوب ہو جاتا ہے۔بعض دوسری روایات میں بھی اس علمی نکتہ کی مزید تفصیل مذکور ہے کہ اللہ تعالی کے مومن بندوں کو اس دنیا میں جو بخار وغیرہ آ جاتا ہے اور بعض اوقات شدید گرمی کی تپش برداشت کرنی پڑتی ہے اس کے متعلق