اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 70
ازواج النبی 70 حضرت عائشہ 2011 " شاید تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے شامل ہو ئیں ، ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریض جنگ اور حظ نفس کے سوا کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارہ میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیار داری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت ہی انجام دے سکتی ہے۔" اس طرح نبی کریم نے جنگ میں عورتوں کا باعزت مقام بحال کیا۔جس پر خواتین بجا طور پر فخر کرتی تھیں۔چنانچہ صحابیات حضرت ام سلیم اور حضرت ام رفیدہ کی جنگی خدمات کے علاوہ خود رسول اللہ ایم کی زوجہ حضرت عائشہ اور آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ نے بھی جنگ بدر میں یہ خدمات انجام دیں۔حضرت ام سلمہ نے غزوہ حدیبیہ میں مفید مشورہ دے کر عورتوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ย صحابیات میں سے حضرت ام سلمہ اور رسول اللہ علیم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کے ساتھ حضرت ย 22 21 عائشہ نے بھی جنگوں میں شریک ہو کر نرسنگ، مرہم پٹی اور زخمیوں کو پانی پلانے کی خدمات انجام دیں۔خادم رسول طی یا کم حضرت انس کی روایت کے مطابق جنگ احد میں انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلیم کو ایسی ہی ہنگامی ڈیوٹی کے دوران مستعدی سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔اسی طرح حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں احد کے دن جب آنحضرت علی ترمیم کے چہرے پر زخم آئے تو آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ نے آپ کے زخم دھوئے اور مرہم پٹی کی۔رسول اللہ علی اعلام جنگوں میں تشریف لے جاتے ہوئے بیویوں کو ہمراہ لے جانے کیلئے قرعہ اندازی کے 23 24 ذریعے انتخاب فرماتے تھے جس کے نام کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے۔احادیث میں حضرت عائشہ کا آنحضور کے ساتھ دو غزوات جنگ احد اور غزوہ بنو مصطلق میں شامل ہونے کا ذکر ملتا ہے۔25 جذبات کا خیال یوں تو نبی کریم سب بیویوں کے ساتھ دلداری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے اور ان کی معمولی ے معمولی شکایت کا بھی ازالہ فرماتے تھے۔مگر حضرت عائشہ اپنی زیر کی ، ذہانت اور مزاج شناس ہونے کی وجہ سے آپ کی شفقت کا خاص مورد ہوتی تھیں۔آپ فرماتے تھے کہ "عائشہ کی فضیلت باقی بیویوں پر ایسے ہے جیسے شرید یعنی گوشت والے کھانے کو عام کھانے پر "۔بعض بیویوں کی طرف سے حضرت عائشہ سے زیادہ