اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 68
ازواج النبی 68 حضرت عائشہ اس واقعہ سے حضرت عائشہ کی ذہنی بلوغت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب میں پرورش پانے کے باوجود آپ کی معلومات اور سوچیں ہم عمر لڑکیوں سے کتنی زیادہ ہوش مندانہ تھیں۔رض 1711 رونق و تفریح عید کا دن تھا حضرت عائشہ کے گھر میں کچھ بچیاں دف بجا کر جنگ بعاث کے نغمے گارہی تھیں۔حضور گھر میں دوسری طرف منہ پھیر کر لیٹے ہوئے تھے۔اتنے میں حضرت ابو بکر تشریف لائے اور اپنی بیٹی حضرت عائشہ کو ڈانٹنے لگے کہ رسول طی علم کے گھر میں یہ گانا بجانا کیسا ؟ آنحضرت میم نے حضرت عائشہ کی خاطر داری کرتے ہوئے فرمایا اے ابو بکر !ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے آج مسلمانوں کی عید ہے۔ان لڑکیوں کو خوشی کر لینے دو۔" حضور کو حضرت عائشہ کی دلداری کا اتنا خیال ہوتا تھا کہ ایک دفعہ عید کے موقع پر حبشہ کے لوگوں نے تیر اندازی ، نیزہ بازی اور تلوار زنی کے کچھ کرتب دکھانے تھے۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا " عائشہ ! تمہارا بھی دل کرتا ہے کہ یہ کھیل دیکھو"۔میں نے کہا ہاں یار سول اللہ ییم ! میں تو " کر تب دیکھنا چاہتی ہوں " آپ نے فرمایا " پھر آجاؤ۔آپ مجھے ساتھ لے گئے اور اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔میں حضور کے کندھے کے اوپر سے دیر تک دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں سیر ہو گئی۔پھر حضور طی تم نے خود ہی مجھ سے پوچھا کہ کیا خوب جی بھر کر دیکھ لیا۔میں نے عرض کیا جی ہاں یار سول الله ملی یا تم اس پر ارشاد فرما یا ٹھیک ہے اب گھر جاؤ۔اس واقعہ سے رسول کریم صلی یا یتیم کی اس شفقت و محبت اور دلداری کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو آپ حضرت عائشہ سے رکھتے تھے۔تاہم حضور کی زوجہ اور ام المؤمنین ہونے کے سبب آپ کی بالغ عمری میں پردہ کی جو ضرورت تھی یہ تماشا دکھاتے ہوئے آپ ہم نے اس کا بھی لحاظ رکھا اور حضرت عائشہ کو پردہ کی خاطر پنے پیچھے کھڑا کر کے یہ کرتب دکھائے۔حضرت عائشہ یہ واقعہ سنا کر فرما یا کرتی تھیں کہ نو عمر لڑکیوں کو کھیل تماشا کا شوق ہوتا ہے۔دیکھو آنحضرت ام نو عمری کے جذبات کا کتنا لحاظ رکھتے تھے اور ہر جائز خواہش پورا کرنے میں کوئی تامل نہیں فرماتے تھے۔ہر چند کہ عائشہ سے شادی کے وقت عمروں کا تفاوت چالیس برس سے بھی زائد تھا جو بہت