اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 65 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 65

ازواج النبی 65 حضرت عائشہ 10 عصر حاضر کے ایک محقق کے مطابق نو سال والی روایت آنحضرت سے صحیح ثابت نہیں ان کے نزدیک حضرت عائشہ کی یہ عمر بیان کر نیوالے واحد راوی ہشام سے تسع 9 کے بعد عشرہ 10 کا لفظ سہوا رہ گیا ہے۔محقق موصوف کے مطابق بوقت نکاح حضرت عائشہ کی عمر ستر 0 17 سال اور رخصتی کے وقت انہیں 19 سال تھی۔اور وہ اٹھائیس 28 سال کی عمر تک یعنی نو سال حضور کے ساتھ رہیں۔تاہم اس بارہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے مؤلف "سیرت خاتم النبیین " کی قابل قدر تحقیق سلسلہ کے لٹریچر میں زیادہ معروف اور رائج ہے۔جس کے مطابق بوقت شادی حضرت عائشہ کی عمر کا اندازہ بارہ سال بنتا ہے۔عرب کے گرم ملک میں چونکہ بچیاں اس عمر میں بالغ ہو جاتی تھیں۔اس لئے ان کی شادی کر دی جاتی تھی۔اس لحاظ سے وہ میں 20 سال کی عمر تک رسول اللہ یتیم کی صحبت میں رہیں۔0 واقعات شادی حضرت عائشہ اپنی شادی کا حال یوں بیان فرماتی ہیں کہ " میں اپنے محلہ حارث بن خزرج میں سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی کہ میری والدہ نے مجھے بلایا۔میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ساتھ نبی اکرم ملی تم بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔والدہ مجھے پینگ پر سے بلا کر لے آئیں۔اس وقت میرے بالوں کی ایک مینڈھی بندھی ہوئی تھی۔والدہ نے میر امنہ وغیرہ دھلوایا، کنگھی کی اور مجھے تیار کر کے نبی اکرم طی نیستم کے پاس لے گئیں وہاں مرد اور عور تیں بھی تھے۔مجھے آپ کے پاس بٹھا کر میری والدہ نے عرض کیا " یہ رہی آپ کی بیوی ! اللہ تعالیٰ آپ کے اہل آپ کے لئے مبارک کرے۔" پھر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور یوں رسول اللہ علیم کے ساتھ میری شادی ہو گئی۔خدا کی قسم میری شادی پر کوئی بکری یا اونٹ ذبح نہیں ہوئے۔ہاں حضرت سعد بن معاذ سردار مدینہ نے کھانے کا ایک دیگچھر رسول اللہ علی یل اسلام کی خدمت میں بھجوایا تھا۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عائشہ کی رخصتی کتنی سادگی سے ہوئی۔یہاں جھولا جھولنے کی روایت سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ حضرت عائشہ ایسی کم سن تھیں کہ شادی کی عمر کو نہیں پہنچی تھیں۔آجکل بھی شادی شدہ لڑکیاں بڑے شوق سے جھولا جھولنا پسند کرتی ہیں اور بعض گھرانوں میں تو مجھولے کو گھر کی زینت بنا کے رکھا جاتا ہے۔بہر حال اس واقعہ سے حضرت عائشہ کی کھیل وغیرہ سے دلچسپی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔1211 "