اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 64 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 64

ازواج النبی 64 حضرت عائشہ رخصتانہ اور عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے دو سال قبل کا ہے۔ہجرت نبوی کے بعد حضرت عائشہ اپنے خاندان کے ہمراہ مدینہ آکر حارث بن خزرج کے محلہ میں ٹھہریں۔یہاں آنے کے ایک سال بعد 2ھ میں حضرت عائشہ کا رخصتانہ ہوا۔حضرت عائشہ کے اپنے بیان کے مطابق اس وقت ان کی عمر نو سال تھی۔اس زمانے میں عمروں کاریکارڈرکھنے کا رواج نہیں تھا۔نو سال والی روایت اگر صحیح بھی سمجھی رض جائے تو یہ حضرت عائشہ کا اپنا ایک موٹا اندازہ ہو سکتا ہے۔حضرت عائشہ کی نو سال کی عمر میں کم سنی کی شادی پر بھی ایک مسیحی دشمن اسلام نے اعتراض کیا ہے۔حضرت مسیح موعود اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔اول تو نو برس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔صرف ایک راوی سے منقول ہے۔عرب کے لوگ تقویم پترے نہیں رکھا کرتے تھے کیونکہ اُمی تھے اور دو تین برس کی کمی بیشی ان کی حالت پر نظر کر کے ایک عام بات ہے۔جیسے کہ ہمارے ملک میں بھی اکثر ناخواندہ لوگ دو چار برس کے فرق کو اچھی طرح محفوظ نہیں رکھ سکتے۔پھر اگر فرض کے طور پر تسلیم بھی کر لیں۔کہ فی الواقع دن دن کا حساب کر کے نو برس ہی تھے۔لیکن پھر بھی کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔محقق ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ نو برس تک بھی لڑکیاں بالغ ہو سکتی ہیں۔بلکہ سات برس تک بھی اولاد ہو سکتی ہے اور بڑے بڑے مشاہدات سے ڈاکٹروں نے اس کو ثابت کیا ہے اور خود صد ہا لوگوں کی یہ بات چشم دید ہے کہ اسی ملک میں آٹھ آٹھ نونو برس کی لڑکیوں کے یہاں اولاد موجود ہے۔" پھر ایک آریہ معترض کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: نہیں۔حضرت عائشہ کا نوسالہ ہونا تو صرف بے سر و پا اقوال میں آیا ہے۔کسی حدیث یا قرآن سے ثابت " (9