اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 57 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 57

ازواج النبی 57 رض حضرت سوده ابن منصور اور ترمذی اور عبد الرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اسی پر روایتوں کا توار د ہے کہ سودہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت علی لیا کہ تم سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا۔بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کر کے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا۔اور اگر ان روایات کے توار د اور تظاہر کو نظر انداز کر کے فرض بھی کر لیں کہ آنحضرت نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں بھی کوئی برائی نہیں اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس سبب سے مر داس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کارروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں " حضرت مصلح موعود نے بھی طلاق حضرت سودہ کے اعتراض کی یہی وضاحت فرمائی ہے کہ ”اس بیوی (حضرت سودہ) کے دل میں ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول کریم ما تم مجھے بوجہ بڑھاپے کے طلاق دیدیں 2666 25 اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں ” نہیں (حضرت سودہ کو) اپنی جگہ یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید آنحضرت علی لیا کہ تم اس حال میں انہیں علیحدہ کر دیں اخلاق فاضلہ 27 حضرت سودہ کی سیرت میں تقویٰ، سادگی ، سچائی، پختگی ، ایمان ، اطاعت رسول اور ایثار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔رسول اللہ صلی یتیم کی وفات کے بعد خلفاء راشدین حضرت سودہ کا جو احترام کیا کرتے تھے اس سے بھی ان کے مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ درہموں سے بھرا ایک تھیلا حضرت سودہ کو بھجوایا حضرت سودہ نے پوچھا اس میں کیا ہے۔بتایا گیا کہ اس میں در ہم ہیں۔وہ سادگی سے فرمانے لگیں کہ کھجور کے بورے میں درہم کہاں ؟ اور گھر کی خادمہ سے کہا کہ اے لڑکی! مجھے ذرا کھجور رکھنے کا برتن لادینا تا کہ یہ کھجوریں اس میں ڈال لیں۔پھر جب بورے کو کھولا تو واقعی در ہم نکلے۔