اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 335
اولاد النبی 335 حضرت امام حسین۔پھر فرمایا جس نے ان سے جنگ کی اس نے مجھے سے جنگ کی جس نے ان سے صلح کی اس نے مجھ سے صلح کی " رسول اللہ صلی علی سلیم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے حسن اور حسین تھے۔30 حسن اور حسین نوجوانان اہل جنت کے سردار ہیں۔حضرت امام حسین سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے امام زمانہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں :۔حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت اور ائمۃ الہد کی تھے اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت علی علم کے آل تھے " ہوں " پھر آپ فرماتے ہیں :۔31 11 میں حضرت علی اور ان کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جو ان کا دشمن ہے میں اس کا دشمن 3211 امام حسین کا اسوہ حسنہ حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت امام حسین کے اسوۂ حسنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : "حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ وہ ان بر گزیدوں سے ہے جن کو خدا تعالی اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیاوہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو ان میں سے ہیں۔دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور بر گزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے۔اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو آئمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔وہ اپنے ایمان