اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 17
ازواج النبی 17 تعددازدواج ย صرف آپ نے ہی نہیں آپ کے اصحاب نے بھی حتی الوسع قربانی کرتے ہوئے عمل کر کے دکھایا۔باقی تمام بیوگان کو اکیلے آنحضرت کا اپنے حرم میں لانا اصول شریعت کے مطابق جائز ہی نہیں تھا۔(الاحزاب : 53) جہاں تک حضرت ام حبیبہ سے شادی پر مسٹر کینن کے اعتراض کا تعلق ہے تو یہ بات نہ صرف دیانتداری پر مبنی نہیں بلکہ تاریخ سے ناواقفیت کا نتیجہ بھی ہے۔تاریخ کا مطالعہ کرنیوالا ایک عام طالب علم بھی جانتا ہے کہ اکثر کفار مکه مسلمان رشتہ داروں کے اسلام قبول کرنے کے بعد بالعموم ان سے رشتے ناطے منقطع کر چکے تھے اور ان کے دلوں میں مسلمان اولاد ، والدین یا بہن بھائیوں کے لئے کوئی خاص نرم گوشہ باقی نہ رہا تھا کجا یہ کہ معاند اسلام ابو سفیان سے اپنی مسلمان بیٹی کی کفالت کی توقع کی جائے۔اگر وہ اتنا ہی ہمدرد ہوتا تو حضرت ام حبیبہ کو مکہ سے حبشہ ہجرت کی نوبت ہی کیوں پیش آتی۔دوسرے ام حبیبہ جو دین کی خاطر وطن اور ماں باپ کو چھوڑ چکی تھیں یہ بات خود انکی غیرت ایمانی کے خلاف تھی وطن اور شوہر کی قربانی دینے کے بعد حالتِ بیوگی میں دین اسلام چھوڑ کر پھر اپنے والد کی کفالت میں جانے کے متعلق وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔اور اگر ایسا کوئی ادنی ساخد شہ تھا بھی تو رسول اللہ سلیم کی ان کے ساتھ رشتہ کی بر محل تجویز سے دور ہو گیا۔کیونکہ مسلمان ہونے کے بعد ہر لحاظ سے ان کی کفالت کے اصل ذمہ دار رسول اللہ صل عالم تھے۔پس جب حضرت ام حبیبہ نے رئیس مکہ کی بیٹی ہو کر تنعم کی زندگی چھوڑتے ہوئے خدا اور اس کے رسول کی خاطر اپنے وطن اور گھر بار کو قربان کر دیا اور دیارِ غیر میں تنہا رہ گئیں تو رسول اللہ سلیم نے حضرت ام حبیبہ کی رضامندی سے انہیں اپنے عقد میں لینے کا ارادہ فرمایا تو اس سے بڑھ کر ان کیلئے کوئی خوشی کی خبر نہ ہو سکتی تھی۔تبھی تو انہوں نے رشتہ کا پیغام لانے والی خادمہ کو خوش ہو کر حسب توفیق انعامات سے نوازا۔عورتوں کے حقوق کا قیام رسول کریم ملی تیم کی شادیوں کی ایک غرض عورت کے مقام اور حقوق کا قیام تھا۔قرآن شریف میں رسول الله علم کو مسلمانوں کیلئے ایک بہترین نمونہ قرار دے کر آپ کی اتباع کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔اس لحاظ سے تعدد ازدواج کی ایک اہم حکمت آنحضرت علی عید کریم کے ذریعہ ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں عدل و انصاف کا بہترین نمونہ قائم کرنا تھا۔خصوصاً اس زمانہ میں جب عورتوں کے حقوق تلف کئے جار ہے تھے۔اور عرب کے معاشرہ میں خواتین کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔آج تک دنیا کی تاریخ میں عور توں