اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 16
ازواج النبی 16 تعدد ازدواج چھٹی زوجہ ام المومنین حضرت میمونہ حضرت عباس کی نسبتی بہن تھیں۔حضرت عباس نے ہی رسول اللہ کی خدمت میں ان کی بیوگی کا ذکر کر کے شادی کی پیشکش کی جسے آپ نے قبول فرمایا۔ساتویں زوجہ حضرت رض ام حبیبہ تھیں جو دیارِ غیر میں بیوگی کے بعد آپ کے عقد میں آئیں۔ان کے علاوہ اگرچہ حضرت جویریہ، حضرت صفیہ اور حضرت ریحانہ بھی بیوگی کی حالت میں رسول اللہ صل تعلیم کے عقد میں آئیں لیکن ان کے ساتھ عقد کی وجوہات دیگر قومی مصالح بھی رکھتی تھیں۔جہاں تک حضرت ام حبیبہ کے بارہ میں مستشرق کینن سیل کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ اگر نبی کریم کی شادیوں کے دفاع میں یہ وضاحت درست ہے کہ وہ بیوگان اور عمر رسیدہ خواتین کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے کیلئے تھیں، تو پھر بہت سی اور بیوگان بھی کیوں حرم نبی میں شامل نہ کی گئیں ؟ اس کے نزدیک کم از کم ام حبیبہ کے بارہ میں یہ وضاحت درست نہیں۔کیونکہ انہیں تو ایسی کوئی دشواری نہ تھی وہ آرام و آسائش سے حبشہ میں آباد تھیں اور مکہ واپسی کی صورت میں بھی ان کے والد ابو سفیان (جو ایک رئیس تھے ) بخوبی ان کی کفالت کے قابل تھے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے۔It is sometimes argued in defence of the Prophet's matrimonial alliances that they were made with the object of supporting widows and old women and that in this case a natural protector was needed۔If this is so there seems no reason why many more were not admitted into the Prophet's harem۔Umm Habiba, however, does not appear to have been in any difficulty, she was comfortably settled in Abyssinia, and, in the case of her return to Arabia, Abu Sufyan was well able to look after her۔قبل ازیں بھی اس اعتراض کا عمومی جواب دیا جا چکا ہے کہ رسول اللہ علیم کی تمام شادیاں مختلف وقتی و قومی مصالح کے تحت تھیں جن میں سے ایک اہم مصلحت بیوگان کا تحفظ بھی تھا۔اس حوالہ سے مزید بیوگان کو حرم میں شامل نہ کرنے کا اعتراض نہایت بودا ہے۔کیونکہ اسلامی شریعت میں نکاح کے احکام کے مطابق آنحضرت اور آپ کے صحابہ کو بیوگان سے نکاح کرنے اور کروانے کی ہدایت تھی (النور : 33) جس پر