اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 279
اولاد النبی 279 حضرت فاطمہ بنت محمد 5 نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تمہارے پاس حق مہر کیلئے کیا ہے۔اس پر حضرت علیؓ نے نفی میں جواب دیا۔حضور علیم نے فرمایا تمہاری وہ زرہ کہاں ہے جو میں نے تمہیں فلاں فلاں وقت میں دی تھی۔چنانچہ حضرت علی نے حق مہر میں اپنی وہ زرہ مالیتی قریباً چار صد 100 درہم پیش کی۔اس بابرکت نکاح کا اعلان خودر سول کریم ملی تم نے فرمایا جس میں مہاجرین وانصار کے بزرگ شامل ہوئے۔رسول کریم صلی یا تم نے خطبہ نکاح ارشاد کرتے ہوئے فرمایا:۔سب تعریف اللہ کی ہے وہ اپنی نعماء اور قدرت کے لحاظ سے قابل پرستش اور اپنے غلبہ اور طاقت کے سبب واجب الاطاعت ہے ، وہ عذاب دینے کے لحاظ سے ایسی ذات ہے جس سے انسان ڈر جائے۔اور نعمتوں کا مالک ہونے کے سبب ایسی ذات ہے جس کار عب دلوں پر طاری ہے ، وہ اپنے احکام زمین و آسمان میں جاری کرتا ہے، اس نے اپنی قدرت سے مخلوق کو پیدا کیا، پھر انسان کو اس میں سے دانائی کے ساتھ ممتاز کیا۔اپنی عزت کے ساتھ اسے حکومت بخشی اور اپنے دین کے ساتھ اس کو معزز بنایا۔پھر اپنے نبی محمد ال نیم کے ذریعہ ان کی تکریم کی۔وہ خدا جس نے مصاہرت کے تعلق کو نسب سے ملا کر ، اس(نکاح) کو فرض ٹھہرایا جس سے برائیاں زائل ہوئیں اور رحموں کو اس نے زینت بخشی۔پھر اس امر (یعنی صلہ رحمی و مصاہرت ) کو لوگوں کے لئے لازم حال قرار دیا۔چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا۔( یعنی اور وہی ہے جس نے پانی سے بشر کو پیدا کیا اور اسے آبائی اور سسرالی رشتوں میں باندھا اور تیرا رب دائمی قدرت رکھتا ہے۔) اس کا حکم اس کی قضاء کو جاری کرتا ہے ،اسکی قضاء اسکی قدر کی طرف چلتی ہے اور اسکی قدر اپنی اجل کی طرف جاتی ہے۔ہر ایک اجل کے لئے وقت مقدر ہے۔پھر خدا جس (حکم) کو چاہتا ہے اس کو مٹاتا اور جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔اس کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ فاطمہ کا علی سے نکاح کروں اور میں نے اس چار سو مثقال کے مہر پر اس کا نکاح کر دیا ہے۔" خطبہ کے بعد آنحضور طی تم نے چھوہاروں کا ایک طشت تقسیم کروایا۔پھر آپ نے نئے جوڑے کو دعا دی خدا تمہاری پریشانیاں دور کرے، تمہارا انصیب نیک کرے اور تم دونوں میں برکت دے اور تم سے