اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 277
اولاد النبی 277 حضرت فاطمہ بنت محمد کی پیدائش ہوئی۔اس وقت حضور سرور دو عالم کی عمر پینتیس 35 سال تھی۔تاریخ طبری، تاریخ خمیس کے علاوہ اصابہ میں یہی روایت مذکور ہے۔مندرجہ بالا روایات کے مطابق حضرت فاطمہ کی ولادت پانچ سال قبل بعثت مانی جائے تو 2ھ میں بوقت شادی آپ کی عمر 20 برس بنتی ہے۔مگر کسی سوانح نگار نے شادی کے وقت آپ کی اتنی عمر نہیں لکھی حتی کہ مستشرقین نے بھی زیادہ سے زیادہ عمر 18 سال لکھی ہے۔تاہم مستند روایات کی رو سے آپ کی ولادت سن بعثت نبوی یا اس کے ایک سال بعد ما نیں تو آپ کی عمر شادی کے وقت 15 سے 16 بنتی ہے۔بعض دیگر مستند روایات میں بعثت نبوی کے قریب زمانہ میں حضرت فاطمہ کی ولادت ہوئی جبکہ آنحضور طی یکم کی عمر اکتالیس 41 سال تھی۔جبکہ حاکم، ابن سعد اور ابن عبدالبر نے بعثت نبوی سے ایک سال قبل آپ کا سن ولادت بتایا ہے۔ان روایات کی تصدیق بعض دیگر قرائن سے بھی ہوتی ہے مثلاً یہ کہ حضرت فاطمہ حضرت عائشہ سے عمر میں پانچ سال بڑی تھیں اور حضرت عائشہ کی پیدائش معروف روایات کے مطابق بعثت کے چار سال بعد بیان کی جاتی ہے۔اسی طرح سن 2 ہجری میں اپنی شادی کے وقت حضرت فاطمہ کی عمر 15 سال اور چند ماہ بیان ہوئی ہے۔اس حساب سے بھی آپ کی پیدائش بعثت نبوی کے پہلے سال ہی بنتی ہے۔جو زیادہ 2 قابل قبول ہے۔بچپن اور تربیت حضرت فاطمہ کو بچپن سے نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا۔کم سنی میں ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔شفیق باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول اللہ علیم کو دی جانے والی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔کبھی آپ کے گھر کے سامنے کوڑا کرکٹ اور غلاظت پھینک دی جاتی کبھی اپنے والد کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان دیکھا تو کبھی مشرکوں نے آپ کے والد بزرگوار کے سر میں خاک ڈال دی۔مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی حضرت فاطمہ نڈر ہو کر اپنے بزرگ باپ کی مددگار بنی رہیں۔ایک دفعہ رسول کریم لی لی کہ تم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی صحن کعبہ میں مجلس لگائے بیٹھے تھے۔ان سرداروں میں سے کسی ظالم نے مشورہ دیا کہ فلاں محلہ میں جو اونٹنی ذبح ہوئی ہے کوئی جاکر اس کی بچہ دانی اٹھا لائے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) جب سجدہ میں جائیں تو ان کی پشت پر