اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 242
ازواج النبی 242 حضرت ریحانہ ย کر دیئے جائیں اور انکے اموال مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے جائیں۔آنحضرت نے یہ فیصلہ سن کر بے ساختہ فرمایا ” یہ فیصلہ الہی قانون کے مطابق اور ایک ایسی تقدیر ہے جو ٹل نہیں سکتی۔12 پس یہ ایک خدائی تقدیر ہی تھی مگر خدا تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کے رحیم و کریم رسول کے ذریعہ سے یہ سخت فیصلہ جاری ہو۔اگر یہود آنحضرت لیلی کیم کو اپنا حکم مانتے تو لازبًا رَحْمَةً لِلعالَمينَ حضرت محمد بنو نضیر کی طرح بنو قریظہ کی بھی جان بخشی کر دیتے۔کسی دلی درد سے آپ فرماتے تھے کہ اگر یہود میں سے دس (بڑے) آدمی بھی مجھ پر ایمان لے آتے تو میں امید رکھتا تھا کہ یہ ساری قوم مجھے مان لیتی۔اور خدائی عذاب سے بچ جاتی۔چنانچہ دوسرے دن جب فیصلے کا اجراء ہونا تھا آپ نے بتقاضائے رحم یہ حکم بھی صادر فرمایا کہ مجرموں کو الگ الگ کر کے سزادی جاوے یعنی ایک کے قتل کے وقت دوسرے مجرم پاس نہ ہوں تاکہ وہ یہ دلخراش منظر نہ دیکھیں۔جب حیی بن اخطب رئیس بنو نضیر کے قتل کی باری آئی تو وہ آنحضرت کو دیکھ کر کہنے لگا اے محمد ! مجھے یہ افسوس نہیں کہ میں نے تمہاری مخالفت کیوں کی لیکن بات یہ ہے کہ جو خدا کو چھوڑتا ہے خدا بھی اسے چھوڑ دیتا ہے۔جب آنحضرت علی یا تم نے اسے اشارۃ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ اے ابو قاسم ! میں مسلمان تو ہو جاتا مگر اب لوگ کہیں گے موت سے ڈر کر میں نے ایسا کیا۔ایسے جنگی مقتولین کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔کیونکہ روایات میں مذکور ہے کہ اس دن جس یہودی کی بھی سفارش آئی یا اس نے اسلام قبول کر لیا، آپ نے اسے معاف کر کے آزاد فرما دیا۔جہاں تک قیدی بچوں اور عورتوں کا تعلق ہے تو وہ سب مدینہ میں ہی رہے۔آنحضرت علی ہم نے انہیں حسب دستور اپنے مختلف صحابہ کی نگرانی میں تقسیم فرما دیا تھا۔پھر ان میں سے بعض نے اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کر لی اور بعض کو آنحضرت صلہ دیا کہ تم نے بطور احسان چھوڑ دیا تھا۔13 حضرت ریحانہ سے شادی کی بحث 14 جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر مسلمانوں کے حلیف اور معاہد بنو قریظہ نے عہد شکنی کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے ساتھ مل کر مسلمانان مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو جنگ احزاب کے بعد ان کے خلاف کارروائی ضروری ہو گئی۔مسلمانوں کی پیش قدمی پر بنو قریظہ قلعہ بند ہو کر مقابلہ پر اتر آئے۔بالآخر مدینہ سے نکل جانے کے معاہدہ پر انہیں مدینہ چھوڑنا پڑا چند سو جنگجو مر دمارے گئے۔اس تعداد میں اختلاف کی