اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 230
ازواج النبی 230 رض حضرت میمونه کے معا بعد سرف“ مقام میں حضور نے احرام کھولا اور حضرت میمونہ سے نکاح ہو گیا۔مکہ میں تیسرے دن مشرکین مکہ کے وفد جس میں حویطب بن عبد العزیٰ اور سہیل وغیرہ شامل تھے ، حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ تین دن پورے ہو گئے ہیں اس لئے آج آپ کو معاہدہ کے مطابق تھے سے کوچ کرنا چاہئے۔حضور علی کیا کہ تم نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں نے میمونہ سے شادی کی ہے اگر آپ لوگ پسند کرو اور ایک دن مزید رکنے کی اجازت دے دو تو میں آپ سب کو دعوت ولیمہ میں شامل کروں گا۔انہوں نے کہا ہمیں آپ کی دعوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس آپ وعدہ کے مطابق مکہ خالی کر دیں، چنانچہ آنحضرت شہر سے باہر تشریف لے گئے اور "سرف " مقام پر جاکر حضرت میمونہ کے ساتھ آپ نے قیام فرمایا جہاں یہ شادی اور تقریب ولیمہ ہوئی۔اس تاریخی واقعہ کو مشہور مستشرق ولیم میور نے بھی بیان کیا ہے ، جس سے رسول اللہ صلی علی یتیم کے ایفائے عہد کی جھلک صاف نمایاں ہے۔اگرچہ میور کو اپنے عناد کے باعث اس کے واشگاف اظہار کی توفیق نہیں ملی۔وہ لکھتا ہے :۔10 Already the stipulated term of three days was ended, and he had entered on a fourth, when Suheil and Huweitib, chief men of the Coreish, appeared before him and said : ' The period allowed the hath elapsed: depart now thefore from amongst us۔' To which the prophet replied courteously: 'And what harm if ye allowed me to remain and celebrate my nuptials in your midst, and make you a feast at which ye might all sit down?' 'Nay,' roughly answered the chiefs, 'we have no need of thy viands retire !' Mahomet gave immediate orders for departure: it was proclaimed among the pilgrims that by the evening not one should be left behind at Mecca۔Palcing his bride in carge of his servent Abu Rafi, he himself proceeded at once to Sarif, distant from the city eight or ten Arabian miles۔In the evening Abu Rafi, :