اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 216
ازواج النبی 216 حضرت ماریہ رض 36 کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے " (الانفال : 68)۔اس حکم الہی پر عمل کرتے ہوئے آپ نے کبھی کوئی غلام یا لونڈی نہیں رکھی اور اخلاق فاضلہ کا وہ بہترین نمونہ دکھایا جسے ہمیشہ کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا۔اس لحاظ سے مؤقف میں زیادہ وزن ہے کہ آنحضرت ملی تم نے بی بی ماریہ کو روز اول سے اپنے حرم میں شامل کر کے ازواج مطہرات جیسا سلوک کیا، ان سے پردہ کر وایا اور الگ رہائش کا انتظام کیا۔اس رشتہ کے نتیجہ میں مصر اور اسکندریہ کے بادشاہ سے تعلقات پیدا ہوئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اس کتاب میں اور اس کے بعد اپنے درس القرآن میں بھی حضرت ماریہ کو رسول اللہ صلی یتیم کی بی بی کے الفاظ سے بھی یاد فرمایا ہے۔اور ان کے لئے "سر یہ بی بی" کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں۔لفظ سُریہ کی لغوی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ سین کی کسرہ (زیر) کے ساتھ لفظ میر سے ماخوذ ہو کر اس کے معنے لونڈی کے ہیں۔جبکہ سین کی ضمہ (پیش) کے ساتھ یہ لفظ شرور سے ہے اور اس کے معنے ایسی بی بی کے ہیں جس سے شوہر خوش ہو یعنی اس کی عزیز بیوی۔اگر یہ مانا جائے کہ حضرت خلیفہ اول نے حضرت ماریہ کے لونڈی ہونے کے متعلق بعد میں کسی وقت اپنی رائے تبدیل کر لی تھی تو آپ نے حضرت ماریہ کے لئے سُریہ کا لفظ انہی معنی میں استعمال فرمایا ہو گا۔یعنی شوہر کو خوش کرنے والی عزیز بی بی۔حضرت ماریہ کا ازواج مطہرات میں شامل ہونا جن قرائن قویہ کی موجودگی میں قبول کرنے کے لائق ہے وہ یہ ہیں :۔رض 1۔ذاتی غلام یالونڈی رکھنے سے اجتناب کے متعلق رسول اللہ علیم کا عملی نمونہ۔2۔شاہ مصر کا اپنے خاندان کی معزز لڑکی ماریہ کو بغرض رشتہ مصاہرت بھجوانا اور حضور طی یا نیم کا بصورت عقد اپنے حرم میں قبول فرمانا۔3۔رسول اللہ علیم کا حضرت ماریہ کو ازواج مطہرات کی طرح پردہ کروانا۔رض 4۔رسول کریم ملی علم کا نو مسلمہ حضرت ماریہ کے حرم رسول میں شامل ہونے پر ان کی تعلیم و تربیت کے لئے حسب منطوق سورۃ احزاب : 52 خصوصیت سے توجہ دینا تا کہ وہ سورۃ احزاب کی آیات 33 تا35 کا نمونہ ہوں۔5۔رسول الله علی علیم کا حضرت ماریہ کو علیحد ودرہائش اور بطور تحفہ انہیں باغ عطا کرنا۔