اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 6 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 6

ازواج النبی 6 تعددازدواج دیگر مذاہب کی موجودہ ناقص اور محرف و مبدل تعلیم میں انسان کی اس فطری ضرورت کا کوئی مداوا نہیں۔اگرچہ بائبل کے بیان کے مطابق بعض بزرگ انبیاء علیهم السلام نے بھی اس فطری تقاضا کے تحت ایک سے زائد شادیاں کیں۔عہد نامہ قدیم میں تعدد ازدواج کا ذکر ابوالانبیاء حضرت ابراہیم جن کو یہود بھی واجب الاحترام اور لائق تقلید جانتے ہیں ان کی تین بیویاں ثابت ہیں۔سارہ ہاجرہ اور قطورہ۔اسی طرح بنی اسرائیل کے نبی حضرت یعقوب کی بھی دو بیویاں لیاہ اور راخل تھیں۔2 اس زمانہ میں بنی اسرائیل میں تعدد ازواج کا تصور موجود تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ”اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہوں 3 166 ایک محبوبہ اور دوسری غیر محبوبہ ہو تو محبوبہ کے بیٹے کو غیر محبوبہ کے بیٹے پر فوقیت نہ دے۔پھر اگر وہ دوسری عورت کرلے تو بھی وہ اس کے کھانے کپڑے اور شادی کے فرض میں قاصر نہ ہو۔چنانچہ یہودی مذہب کے بانی حضرت موسی کی بیویوں میں صفورہ اور کوشی عورت کا ذکر ملتا ہے۔6 (466 5 لکھا ہے اسی طرح حضرت داؤد کی سات بیویوں کا ہو نا واضح طور پر بیان ہے۔حضرت سلیمان کے حرم میں فرعون کی بیٹی کے علاوہ مختلف اقوام موآبی، علمونی، ارومی، صیدانی اور حتی سے سات سو بیویاں شاہی خاندان سے تھیں اور تین سو کنیزیں تھیں۔نئے عہد نامہ میں بھی محض کلیسیا کے نگہبان کیلئے ایک بیوی کی شرط ہے۔جیسا کہ لکھا ہے ” پس نگہبان کو بے الزام ایک بیوی کا شوہر پرہیز گار متقی ہونا چاہیے۔جبکہ عام عیسائیوں کیلئے کسی پابندی کا صریحاً کا ذکر نہیں۔یہی حال ہندو مذہب کا ہے۔حضرت کرشن کی کثیر التعداد بیویاں مشہور ہیں۔لیکن تعدد ازدواج پر اس مذہب میں بھی پابندی ہے۔بہر حال ان مذاہب کی تعلیم میں یہ سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ بے راہ روی اور بد کاری کے مختلف طریق میں ملوث ہو کر تسکین پانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور ان میں کوئی بھی ایک شادی پر قانع ہونے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور اپنی بیویوں کے حقوق غصب کرتے ہوئے گرل فرینڈ