اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 160
ازواج النبی 160 حضرت جویریہ کر دئے گئے کہ ام المومنین حضرت جویریہ کے رشتہ داروں اور عزیزوں کو ہم بطور غلام بالونڈی کے اپنے پاس کیوں رکھیں۔16 الغرض اللہ تعالی نے اس قبیلہ کی غلامی سے آزادی کی یہ برکت حضرت جویریہ کے طفیل ظاہر فرما دی اور اس کا نہایت گہرا اور عمدہ اثر اس قبیلے کے لوگوں پر ہوا جس کے نتیجہ میں وہ قبیلہ بجائے دشمنی کے اسلام کے قریب ہو گیا۔ایک اعتراض کا جواب وہ روایات جن میں یہ ذکر ہے کہ حضرت جویریہ آنحضرت میں لیا یتیم کی ملک یمین (لونڈی ) کے طور پر تھیں صحیح نہیں۔کیونکہ مستند روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت علی عالم نے حضرت جویریہ کو آزاد کر کے ان کا حق مہر مقرر کیا اور بنی مصطلق کے تمام اسیر اس رشتہ مصاہرت کی برکت سے آزاد ہوئے۔خود حضرت جویریہ بیان کرتی ہیں کہ ایک موقع پر میں نے آنحضرت علی نیم کی خدمت میں جب یہ ذکر کیا کہ یارسول اللہ ! بعض ازواج مطہرات مجھ پر فخر کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ آپ نے مجھے بطور لونڈی کے اپنایا ہے۔آنحضرت علیہ السلام نے فرمایا کہ اے جویریہ ! کیا میں نے تمہارے لئے حق مہر مقرر نہیں کیا۔لونڈی کا تو کوئی حق مہر نہیں ہوتا۔پھر میں نے تو حق مہر کے علاوہ بھی تمہاری قوم کے چالیس غلام اور لونڈیوں کو 17 بھی آزاد کر دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت جویریہ آنحضرت علی علم کی زوجہ مطہرہ کے طور پر آپ کے عقد میں آئیں۔اور آپ کی تربیت اور فیض صحبت سے جس طرح باقی ازواج نے حصہ پایا ہے اسی طرح اللی تقدیر کے مطابق قبیلہ بنو مصطلق کی اس خوش قسمت خاتون نے بھی حصہ پایا۔جنہیں ان کی طبعی نیکی اور سعادت کے نتیجہ میں رؤیا کے ذریعہ اس کی پیشگی خبر دے دی گئی تھی۔یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ حضرت جویریہ کے ملک یمین یالونڈی ہونے کے بارہ میں اعتراض ازواج نبی کو کیسے پیدا ہوا جو رسول اللہ علیم کی تربیت یافتہ تھیں۔اس بارہ میں یادر کھنا چاہئے کہ وہ زمانہ شریعت کے نزول کا تھا۔جب پرانے رسم ورواج کے خاتمہ کے ساتھ اسلامی تعلیم کے نفوذ کا آغاز ہو رہا تھا۔