اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 156
ازواج النبی 156 حضرت جویریہ رض سے بھی بچتے تھے اور نیکی کے ساتھ آپ کو کتنی گہری محبت تھی کہ یہ بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ نیکی سے جدائی کا مضمون لفظی طور پر بھی گفتگو میں کہیں پیدا ہو۔بڑہ ایک مشرک سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔جن کا تعلق بنو خزاعہ قبیلے کی مصطلق شاخ سے تھا۔آنحضور علی لام کے حرم میں آنے سے پہلے وہ ایک مشرک مسافع بن صفوان کے عقد میں تھیں جو غزوہ بنی مصطلق میں مارا گیا اور وہ اسیر ہو کر حضرت ثابت بن قیس یا ان کے چازاد کے حصہ میں آئیں۔اور مکاتبت میں امداد کیلئے حضور صلی علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئیں۔غزوہ بنو مصطلق 3 یہاں غزوہ بنو مصطلق ( جسے غزوہ مریسیع بھی کہتے ہیں) کے بارہ میں مختصر آیہ ذکر مناسب ہوگا کہ قبیلہ بنو مصطلق مکہ اور مدینہ کے درمیان ساحل سمندر کے پاس مریسیع مقام پر آباد تھا۔0 4 قریش مکہ کے اکسانے پر اس قبیلے کے سردار حارث بن ابی ضرار نے 5ھ میں اپنے آٹھ دیگر ساتھی قبائل کے پاس جا کر ان کو مدینے پر حملے کے لئے تیار کیا۔آنحضور ملی ٹیم کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے ایک صحابی حضرت بریدہ اسلمی کو احوال معلوم کرنے کی غرض سے بھیجا۔انہوں نے واپس آکر بتایا کہ بنو مصطلق کے لوگ مدینہ پر حملہ کے لئے بالکل تیار ہیں۔آنحضرت طلی تم نے بجائے مدینہ میں رہ کر دفاع کرنے کے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ مسلمانوں کو فوری جہاد کی تیاری کا حکم دیا اور بنو مصطلق کے علاقے مریسیع کی طرف کوچ فرمایا اور منزلیں مارتے ہوئے اچانک ان کے علاقہ میں جا پہنچے جہاں اس قبیلہ کا سردار دیگر حامی قبائل کو اکٹھا کر رہا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب اتنا آناً فانا اور خاموشی سے کیا کہ دشمن کو اس کی بھنک بھی نہ پڑی اور آپ دشمن کے سر پر جا پہنچے ، جب وہ امن سے اپنی بکریوں کو پانی پلا ر ہے تھے۔وہ اچانک مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر سخت پریشان ہو گئے۔ارد گرد کے قبائل جو ان کی مدد کے لئے آئے ہوئے تھے وہ تو گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوئے، البتہ قبیلہ بنو مصطلق کے لوگوں نے کچھ مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔5