اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 138
ازواج النبی 138 حضرت زینب بنت جحش زمانہ میں اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔جن عورتوں نے ابتدائی زمانہ میں ہجرت کی آپ بھی ان میں شامل 2 آپ کا اصل نام بڑہ تھا۔آنحضرت طی می کنیم نے اسے تبدیل کر کے زینب نام رکھا۔آنحضرت کے لطیف ذوق کے مطابق یہ پُر حکمت طریق تھا کہ ایسے نام جو معنی کے لحاظ سے اچھے نہ ہوں بدل کر کوئی اور نام رکھ دیتے تھے۔بڑہ بظاہر ایک اچھا نام تھا جس کے معنی سراپا نیکی کے ہیں، لیکن چونکہ قرآن شریف میں حکم ہے لَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُفر کہ اپنے نیک پاک ہونے کا دعویٰ نہ کرو۔اسی مصلحت سے حضور نے بڑہ کی بجائے زینب نام رکھا۔جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ بڑہ نام کے بارہ میں یہ کہا گیا کہ اس میں اپنے آپ کو پاک قرار دینے کے دعوئی کا گمان ہو سکتا ہے۔اسکی تائید محمد بن عمرو کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ میری بیٹی کا نام بڑہ رکھا گیا۔حضرت ابو سلمہ کی بیٹی زینب نے اس نام سے منع کرتے ہوئے بتایا کہ میرا نام بھی بڑھ رکھا گیا تھا، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے نیک پاک ہونے کا دعویٰ نہ کرو۔اللہ تعالیٰ تم میں سے نیک لوگوں کو جانتا ہے۔چنانچہ میر ا نام زینب رکھا گیا۔حضرت زینب کی کنیت ام الحکم تھی۔قریش کے معزز قبیلے کی خاتون ہونے کے علاوہ دینداری اور تقویٰ میں بھی حضرت زینب کا بلند مقام تھا۔پہلی شادی اور طلاق کی گہری حکمت رض حضرت زید کا تعلق دراصل ایک آزاد عرب قبیلہ بنو کلب سے تھا۔ان کے دشمن قبیلہ نے حملہ کر کے انہیں بچپن میں ہی غلام بنا لیا اور حضرت حکیم بن حزام نے خرید کر اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کو پیش کر دیا۔حضرت خدیجہ نے انہیں ہو نہار پا کر رسول کریم کو دے دیا اور حضور نے انہیں آزاد کر کے اپنا بیٹا بنالیا۔انہیں حضور کی صحبت میں رہ کر خدمات کی توفیق ملی۔وہ دینی کاموں میں پیش پیش ہوتے تھے۔حضور علی کیا کہ تم نے ان کی دینداری اور تقویٰ کی وجہ سے یہ پسند فرمایا کہ ان سے غلامی کا داغ دھونے کے لیے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب نگارشتہ حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ ہو جائے۔پہلے تو زینب نے اپنی خاندانی بڑائی کا خیال کرتے ہوئے اسے ناپسند کیا۔لیکن آخر کار آنحضرت ملی تم کی پر زور خواہش کو دیکھ کر رضامند ہو گئیں۔