اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 129
ازواج النبی 129 ย حضرت ام سلمہ حضور علی علیم کے ساتھ حضرت ام سلمہ کی شادی کے وقت یہ اپنی والدہ کی گود میں شیر خوار بچی تھیں۔شادی کے بعد جب آنحضور علیم کمرے میں داخل ہوئے تو حضرت ام سلمہ بیٹی کو دودھ پلا رہی تھیں۔آپ واپس تشریف لے گئے۔دوبارہ تشریف لائے تو یہی صور تحال دیکھی اور پھر واپس ہو گئے۔حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی حضرت عمار بن یاسر گو جب اس کا علم ہوا تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ بچی تمہارے اور رسول اللہ نیم کے درمیان حائل ہے اسے میرے سپر د کر دو۔اس کے بعد جب حضور طی یک تیم تشریف لائے تو زینب کو گھر میں نہ پاکر فرمایا ”زناب کہاں ہے ؟“ انہوں نے عرض کیا کہ اسے عمار باہر لے گئے ہیں۔پھر حضرت عمار نے اپنی اس بھانجی کی رضاعت کا مناسب اہتمام کیا۔ابن سعد کے مطابق رضاعت کی یہ ذمہ داری حضرت اسماء بنت ابو بکر ادا کرتی رہیں۔آنحضرت نے ایک موقع پر محبت اور پیار کا اظہار کرتے ہوئے زینب کے چہرے پر پانی چھڑ کا تھا، کہتے ہیں کہ اس کی برکت سے بڑھاپے میں بھی ان کے چہرے پر ترو تازگی کے آثار نظر آتے تھے۔فیض صحبت رسول ملی ایل ایلیم 41 42 40 آنحضرت طلی یا تم نے اپنی ازواج کی جو اعلیٰ تعلیم تربیت فرمائی۔حضرت ام سلمہؓ کی روایات میں اس کا بھی ذکر ملتا ہے۔حضرت ام سلمہ قرآن کی حافظہ تھیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن کی تلاوت کا طریق بیان کرتے ہوئے حضرت ام سلمہ فرماتی تھیں کہ رسول اللہ علیم ہر ایک آیت جدا کر کے پڑھا کرتے تھے۔مثال کے طور پر آپ سورۂ فاتحہ کی بسم اللہ سے لیکر مالِك يَوْمِ الدِّین تک چار آیات چار ٹکڑوں میں الگ الگ پڑھ کر سنا تیں۔ایک روایت میں پردہ کے مسائل کے بارہ میں آپ فرماتی ہیں کہ آنحضرت علی علیم نے انہیں اور حضرت میمونہ کو اپنے ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم سے بھی پردے کی ہدایت فرمائی تھی۔اور بیویوں کے اس سوال پر کہ وہ تو نابینا ہیں۔رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ کیا تم بھی نابینا ہو ؟ اس طرح آنحضرت لعلم نے نہایت باریک بینی سے اس قرآنی ہدایت پر عمل کروایا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اور کسی نابینا مرد پر بھی اپنے گھر کی عورتوں کو نظر ڈالنے سے روک کر پردے کا ایک اعلیٰ نمونہ قائم کر کے دکھایا اور خواتین کا مردوں سے اختلاط کسی صورت میں بھی پسند نہیں فرمایا۔