اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 92
ازواج النبی 92 حضرت عائشہ اجازت دو گی۔میں نے کہا مجھے تو آپ کی خواہش عزیز ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر آپ اٹھے ، مشکیزہ سے وضو کیا، اور نماز میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے لگے۔پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ کا دامن آنسوؤں سے تر ہو گیا۔پھر آپ نے دائیں پہلو سے ٹیک لگائی۔دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر کچھ توقف کیا۔پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے فرش زمین بھیگ گیا۔صبح دم بلال نماز کی اطلاع کرنے آئے تو آپ کو روتے پایا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ بھی روتے ہیں؟ حالانکہ اللہ نے آپ کو بخش دیا۔فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔پھر فرمانے لگے میں کیوں نہ روؤں جبکہ آج رات مجھ پر یہ آیات اتری ہیں اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ والْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔آپ نے آل عمران کے آخری رکوع کی یہ آیات پڑھیں اور فرمایا ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس نے یہ آیات پڑھیں اور ان پر غور نہ کیا۔یہ وہ حقائق ہیں جنکو محقق مستشرقین کیلئے بھی قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں۔چنانچہ مسٹر مار گو لیتھ بھی جن کی آنکھ عموماً ہر سیدھی بات کو الٹا دیکھنے کی عادی ہے آنحضرت طلیم کے تعدد ازدواج کے بارہ میں حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہو کر لکھتے ہیں۔77 محمد ) کی بہت سی شادیاں قومی اور سیاسی اغراض کے ماتحت تھیں کیونکہ محمد (مم) یہ چاہتے تھے کہ اپنے خاص خاص صحابیوں کو شادیوں کے ذریعے سے اپنی ذات کے ساتھ محبت کے تعلقات میں زیادہ پیوست کر لیں۔ابو بکر و عمر کی لڑکیوں کی شادیاں یقیناً اسی خیال کے ماتحت کی گئی تھیں۔اسی طرح سر بر آوردہ دشمنوں اور مفتوح رئیسوں کی لڑکیوں کے ساتھ بھی محمد ( یا ریتم ) کی شادیاں سیاسی اغراض کے ماتحت و قوع میں آئی تھیں۔" پروفیسر ڈاکٹر ویگلیری لاراویسیا لکھتی ہیں :۔رض سوائے حضرت عائشہ اور حضرت ماریہ : ناقل) کے آپ نے ایسی عورتوں سے نکاح کیا جو نہ تو کنواری تھیں نہ جوان اور نہ ہی غیر معمولی خوبصورت۔کیا یہی عیاشی ہوتی ہے؟"