آغاز رسالت

by Other Authors

Page 12 of 23

آغاز رسالت — Page 12

۱۲ ترجمه دعائیں مانگتے تھے۔قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک طرف کشش بہت بڑھ جاتی ہے تو دوسری طرف کا خوف دل سے دُور ہو جاتا ہے ( ملفوظات چهارم ص ۳۳۲) 16۔آپ نے غار حرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے۔خدا جانے کتنی مدت تک تضرعات اور گریہ وزاری کیا گئے۔تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنت کیا کئے تب جاکر کہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔۔۔اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اوپر ایک موت اور حالت فنا وارد نہ کر لے تب تک اُدھر سے کوئی پرواہ نہیں کی جاتی البتہ جب خدا دیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے پر موت وارد کرلی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہو جاتا ہے اور اُس کو نوازنا اور قدرت نمائی (ملفوظات جلد پنجم مک (۵) سے بلند کرتا ہے۔" قرآن کریم نے اس کیفیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔وَوَجَدَكَ صَالاً فَهَدَى (الضحى : ٨) (^: یہ : اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنی تلاش میں سرگردان و جیران پایا پس اُس نے تجھ کو اپنی طرف آنے کا راستہ بتا دیا۔اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار سے اپنے ہونے کے ثبوت دینے پہلے آپ کو خواب میں ایسے نظارے دکھائے جو صبح ہونے پر صبح کے سورج کی طرح روشن انداز میں پوے ہو جاتے۔خواب میں مستقبل کی خبریں دیں جو اُسی طرح پوری ہو جاتیں۔آپ کا دل حمد