آغاز رسالت — Page 8
کا علم ہوتا۔ہر طرف خدا تعالیٰ سے دوری کی وجہ سے مذاہب میں کھو کھلا پن آگیا تھا۔گندے رسم و رواج کو مذہب کا نام دیا جاتا۔اچھائی اور بُرائی کا تصور بدل گیا تھا اُس معاشرے میں نمایاں اور ممتاز وہ نہیں ہوتا تھا میں کے خیالات پاک ہوں بلکہ قدر کی نگا ہیں اُس طرف اُٹھتی تھیں جو گمراہی میں تیز قدم ہو۔شرک کی کوئی انتہا نہ تھی۔صرف خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ان بتوں کے الگ الگ نام اور کام تھے۔اُن کے دن منائے جاتے۔قربانیاں دی جانیں اور گانے بجانے کی تفلیس منعقد کی جاتیں۔عیسائیوں کے شرک کا یہ حال تھا کہ فانی انسانوں کو خدا کا درجہ دے دیا م تھا۔اور اس طرح تین خداؤں کو مانتے تھے۔یہودیوں نے بھی ایک نبی کو اللہ تعالیٰ کا بیا بنایا ہوا تھا۔یہودیوں نے تو اللہ تعالی کی اتنی نا فرمانیاں کی تھیں کہ خدا کے پکے مجرم مین گئے تھے۔مذہب کے نام پر ملنے والے سارے چراغ بجھ چکے تھے۔روشنی کی جو کرن دین ابرا ہیٹی کے نام سے زندہ تھی۔ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اسی دین پر قائم تھے۔ایک زندہ اور قادر خداجس کا گھر خانہ کعبہ ہے جس کا پیغام سب مذاہب کی اصلی تعلیم میں ملتا ہے۔وہ حی دقیوم ، واحد لاشریک خدا کہاں ہے کیسے مل سکتا ہے۔انگر وہ معبود حقیقی مل جائے تو بھٹکے ہوئے انسانوں کو سیدھا راستہ دکھایا جا سکتا ہے۔ساری دنیا کے سارے دکھوں کا علاج اُس معبود کو پانے میں ہے۔وہ اللہ تعالیٰ مل جائے تو اُس سے پوچھا جائے کہ انسانوں کے دلوں سے گند کیسے دور کیا جاسکتا ہے ہر طرف ظلم اور ظلمت کے اندھیروں کو کس طرح نور سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔آپ اپنے ارد گرد کی ہر جھوٹی خراب اور بے معنی رسم کے خلاف تھے۔بتوں پر پھر ھائے چڑھائے