آغاز رسالت — Page 11
محفوظ رہ سکے اور سردی گرمی کا اُس پر اثر نہ ہو۔خوراک ختم ہو نے پر حضور گھر تشریف لے آتے تو وہ اگلے قیام کے لئے کھانا تیار کہ دنہیں۔ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مل کر غار حرا میں اعتکاف کی نذر مانی۔الخصائص الکبری جلداً ص ۲۲۶ ترجمہ)۔غار حرا کی عبادت کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود متحر یہ فرماتے ہیں۔" اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہلِ دنیا سے ایک نفرت اور کم است پیدا ہو جاتی ہے۔یا لطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی حالت تھی۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپؐ اس تنہائی میں ہی پوری لذت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہو۔آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گزارتے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے بہادر اور شجاع تھے جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت بھی آجاتی ہے۔اس لئے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔اہل دنیا بر دل ہوتے ہیں۔اُن میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی۔،، ( ملفوظات جلد چہارم ص (۳۱) آپ کی پہلی عبادت رہی تھی۔جو آپ نے غار حرا میں کی۔جہاں کئی کئی دن دیوانہ پہاڑی کی غار میں جہاں ہر طرح کے جنگلی جانور اور سانپ چیتے وغیرہ کا خوف ہے دن رات اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت کرتے تھے اور