عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 86

86 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول بے حد متوازن شخصیت کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم بھی ہے۔پس اُمَّةً وَسَطاً“ کا یہ معنی بھی بنے گا کہ یہ بہترین امت ہے۔یہ بنیادی خصلت جس قوم میں پیدا ہو جائے اور وہ ہر حال میں وسطی طریق اختیار کرنے والی ہو نیز اس کا جھکاؤ ایک طرف نہ ہو تو دوسری قومیں اسے عزت و وقار اور اعتماد کی نظر سے دیکھتی ہیں لیکن کسی ایک طرف جھکاؤ رکھنے والی قوم کو ہرگز یہ حق نہیں مل سکتا کہ وہ دیگر قوموں کے درمیان عدل و انصاف کی کرسی پر بیٹھے اور ان پر نگران مقرر کی جائے۔پس اسلام کو ایک عالمگیر منصف کے طور پر پیش کرنا بالکل برحق ہے کیونکہ یہ وہ دین ہے جس میں تمام بنی نوع انسان کا نگران بننے کی صلاحیت موجود ہے۔اسی طرح امت کے اخلاق کی نگرانی کیلئے اور اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کہ یہ امت واقعی انصاف پر قائم ہے اس پر ایک ایسے رسول کو نگران بنادیا گیا ہے جو صفت عدل میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائے بزرگ و برتر اور مالک کون و مکاں کا کامل اعتماد حاصل ہوا چنا نچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف مسلمانوں بلکہ درج ذیل آیت کے مطابق تمام انبیاء پر بھی نگران قرار دیا گیا۔صراط فَكَيْفَ إِذَا جِتُنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدِ وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًان مستق (النساء 42:4) ترجمہ: پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔قرآن کریم مسلمانوں کیلئے جو راہ عمل تجویز کرتا ہے وہ نہ صرف بے حد متوازن اور معتدل ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ یہ راہ ہر ظاہری اور باطنی بجھی سے پاک ہے۔دینِ اسلام کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اس کی تعلیم بے حد متوازن اور تعصب سے کلیہ پاک ہے۔چنانچہ اس مضمون کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: قُلْ إِنَّنِي هَدْيِنِى رَبِّى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَهِيْمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (الانعام 162:6) ترجمہ: تو کہہ دے کہ یقیناً میرے رب نے مجھے سیدھے رستے کی طرف ہدایت دی ہے۔(جسے ) ایک قائم رہنے والے دین، ابراہیم حنیف کی ملت ( بنایا ہے ) اور وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھا۔