عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 77
مذهب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار 77 مطابق افریقہ اور ایشیا میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد پانی کی نہایت قلیل مقدار پر بمشکل گزارہ کر رہی ہے اور جو پانی میسر ہے وہ بالعموم صحت کیلئے سخت مضر اور نا قابل استعمال ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی متعلقہ تنظیمیں پانی کی اہمیت اور صحت بخش پانی کی مناسب مقدار میں فراہمی کے حقوق پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں۔پس جنت کے بارے میں قرآنی تصور کی فضیلت کا اندازہ لگائیں جہاں بالکل ابتدائی اور بنیادی سطح پر پانی کی اہمیت کو سمجھا گیا ہے اور اسے معمولی خیال نہیں کیا گیا۔نبوت کا اپنے کمال کی طرف سفر : حضرت آدم کے بعد انبیا کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مرقرین قیاس ہے کہ حضرت آدم کے بعد اور حضرت نوح سے پہلے کئی انبیاء گزرے ہوں تاہم قرآن کریم میں ان کا ذکر نہیں ملتا جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی نہیں تھے۔حضرت نوح کے زمانے تک وہ شریعت نافذ رہی جو حضرت آدم کو عطا ہوئی تھی۔حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک انسانی تہذیب و تمدن نے کافی ترقی کی۔اگر حضرت نوح دجلہ اور فرات کی سرزمین میں مبعوث کئے گئے تھے تو تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ یہ علاقہ ایک اچھا خاصا ترقی یافتہ تجارتی مرکز بن گیا تھا جہاں دور دراز سے تجارتی قافلے کھنچے چلے آتے تھے۔سازگار موسمی حالات کے باعث میسو پاناما (Masopatama) کے علاقے میں بسنے والی خانہ بدوش اقوام جن کا گزارہ محض شکار پر تھا ، نے زراعت پر مبنی ثقافت کی بنیاد رکھی اور مستقل آبادیاں بنا کر رہنے لگیں۔آب پاشی کے طریق، دھات کاری، ظروف سازی، فن تعمیر اور دیگر کاموں میں انہوں نے کافی ترقی کی۔قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پسپائی (POMPET) کے اس معاشرہ کی مانند ایک آسودہ حال معاشرہ تھا جو شدید زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کے باعث صفحہ ہستی سے مٹ گیا تھا۔اس ترقی یافتہ انسانی معاشرہ کو بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتے ہوئے معاشرتی تقاضوں کے پیش نظر زیادہ ترقی یافتہ آسمانی تعلیم کی ضرورت تھی۔قرآن کریم کے مطابق حضرت نوح کے زمانہ کے لوگ ہر قسم کے ظلم میں ملوث تھے نیز پورا معاشرہ صراط مستقیم سے ہٹ کر گناہوں کی دلدل میں ھنس چکا تھا۔اس سے بآسانی یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان پر گناہ کے تصور کو خوب اچھی طرح واضح کر دیا گیا تھا کیونکہ شریعت کے بغیر گناہ کے کوئی معنی نہیں ہیں۔چنانچہ مذہبی اصطلاح میں گناہ سے مراد شریعت کی خلاف ورزی ہے۔دنیا کے مختلف خطوں اور مختلف ادوار میں مبعوث ہونے والے انبیاء کی امتوں کا بھی یہی حال