عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 71

مذہب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار -8 مذہب کی تشکیل میں تین تخلیقی اصولوں کا کردار 71 قوانین عدل انسان کے اس طرز عمل پر بھی اطلاق پاتے ہیں جو مذہب کے دائرے میں آتا ہے۔مذہب کے حوالے سے ہم اپنی گفتگو کا آغاز اس دور سے کرتے ہیں جو قر آنی تعلیم سے پہلے کا زمانہ ہے یعنی وہ دور جس میں سب سے پہلے حضرت آدمؑ پر بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے مذہبی تعلیم نازل فرمائی گئی۔اس ابتدائی تعلیم کے جو خد و خال قرآن کریم نے محفوظ فرمائے ہیں ان سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر سماجی اور معاشی انصاف سے متعلق تھے۔حضرت آدم کا دین ایسی مضبوط بنیادیں استوار کرتا دکھائی دیتا ہے جن پر بتدریج آسمانی تعلیمات کی عمارت تعمیر ہوئی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا اور محض عدل سے جو گفتگو شروع ہوئی تھی وہ احسان اور ایتا عذی القربی جیسی اعلیٰ تعلیمات تک جا پہنچی۔مختصر یہ کہ حضرت آدم کے زمانے سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک ایک معین ارتقائی عمل کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے جہاں مذہب اپنے نقطہ کمال کو پہنچتا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ دیگر مزعومہ مذاہب یا تو دیو مالائی قصے کہانیاں ہیں یا پھر آسمانی مذاہب کی بگڑی ہوئی ایسی شکلیں جو انسانی دست برد کا شکار ہو چکی ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کا دور: نبوت آسمان سے روشنی کا ایسا پیغام لاتی ہے جس کے سامنے اس زمانے کے لوگوں کو یا تو سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے یا پھر اپنی خطاؤں اور گناہوں کے طبعی نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کا عدل ہے جو انبیاء کے اس حاکمانہ کردار کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔الہامی مذہب کی آمد سے پہلے معاشرہ اپنے قائدین کو منتخب کرنے اور پھر ان کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے میں کلیۂ آزاد تھا۔تو پھر اچانک انسان کو ایک دوسرے انسان کی اطاعت پر کیوں مجبور کر دیا گیا ؟ قرآن کریم اس اشکال کا حل یوں پیش کرتا ہے کہ حضرت آدم کو دوسروں پر کوئی ذاتی فضیلت حاصل نہ تھی۔وہ بھی دیگر انسانوں جیسے ایک انسان ہی تھے اور انہیں دیگر لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے اندر نفخ روح کیا یعنی اپنا کلام اور حکم ڈالا تب انہیں یہ حق مل گیا۔نفخ روح کی قرآنی اصطلاح کا مطلب انسان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا نزول ہے۔چنانچہ فرمایا: