عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 70
70 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول یہ صرف دو مثالیں ہیں جو میں نے پیش کی ہیں ورنہ روزانہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جہاں نظام عدل کی یہ حالت ہو کہ انسانی حقوق کے ادنی تقاضے بھی پورے نہ ہورہے ہوں وہاں اس کے نتائج انتہائی ہولناک ہو سکتے ہیں۔اس قسم کے معاشرے میں ہم دیگر بنیادی حقوق کی حالت کا بھی بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔پس اس پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے کو ادنی ترین درجہ پر بھی عدل کے احکام کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہئے۔