عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 23

زمین کا ماحولیاتی نظام 23 جائے کہ کامل عدل کسی ایک جزو کو دوسرے کسی بھی جزو کے کام میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیتا۔جہاں تک مضر اثرات کا تعلق ہے تو اس نظام کے تمام اجزاء کو ان کے منفی اثرات سے مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے جبکہ اس نظام کے فوائد کو دوسرے اجزاء تک پہنچنے سے نہیں روکا گیا بلکہ ان کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کوممکن بنادیا گیا ہے۔یادر ہے کہ یہ عدل کے تصور کے منافی نہیں ہے۔یہ بات سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ عدل جسے مادی دنیا پر اطلاق کی صورت میں کامل توازن اور ہم آہنگی سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کے نفاذ میں زمین سے قریب ترین آسمان کا کردار کیا ہے؟ یہاں جب ہم عدل کا مادی دنیا پر اطلاق کرتے ہیں تو اسے کامل تو ازن اور ہم آہنگی سے ہی تعبیر کرتے ہیں۔آیئے اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کرہ ہوائی کی مختلف نہیں زمین کے گرد کیا کر دار ادا کر رہی ہیں؟ یادر ہے کہ اگر چہ یہ قریب ترین آسمان بظاہر ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن دراصل یہ کئی کروں میں منہ ہے۔اب ہم اس کی مختلف تہوں کے حوالے سے کچھ مزید جائزہ لیتے ہیں۔زیریں کرہ ہوائی: (The Troposphere) زمین کے قریب ترین ہوائی کرہ کو TROPOSPHERE کا نام دیا گیا ہے۔یہ کرہ ہوائی سطح زمین سے لے کر قریباً سات میل کی بلندی تک چلا گیا ہے۔بلندی کے ساتھ ساتھ اس کا درجہ حرارت بھی گرتا چلا جاتا ہے۔چونکہ یہ کرہ ہوائی سطح زمین کے عین اوپر واقع ہے اس لئے ہمارا پہلا اور براہ راست تعلق اسی کے ساتھ ہے۔گیسوں کی اس سات میل موٹی تہہ نے سطح زمین کو پوری طرح گھیر رکھا ہے اور یہ کشش ثقل کے باعث قائم ہے۔اس کے کئی ایک مقاصد ہیں۔تمام نظامِ حیات نچلے آسمان کے اسی حصہ کے سہارے قائم ہے۔مزید برآں یہ تہ حفاظتی حصار کا کام بھی دیتی ہے۔ان گیسوں میں ٹھوس مادہ کے بے شمار نامیاتی اور غیر نامیاتی ذرات معلق ہوتے ہیں جو ہوا کی مسلسل حرکت کے باعث سطح ارض سے اور پر فضا میں بلند رہتے ہیں۔کرہ ہوائی کا یہ حصہ زمین اور اس پر موجود زندگی کو شہب ثاقب وغیرہ کی مسلسل بوچھاڑ سے محفوظ رکھتا ہے۔اس کے بغیر زمین پر کسی قسم کی زندگی کی بقا ممکن نہیں۔ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ اس تہ کی کثافت اور حجم ضرورت کے عین مطابق ہے۔اگر یہ توازن خدا نخواستہ بگڑ جائے تو یہ تبہ زمین پر موجودز ندگی کیلئے نہ صرف بے سود بلکہ نقصان کا موجب ہوگی کیونکہ اس طرح سورج کی روشنی اور دیگر مفید شعاعیں زمین تک نہ پہنچ پائیں گی۔(3)