عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 253
رشتہ داروں کے متعلق عدل و احسان کی تعلیم 253 یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یتامی پر رحم کرو اور ان کا خیال رکھو بلکہ فرمایا کہ چونکہ یہ حکم من حيث المجموع معاشرہ کو دیا جارہا ہے اسلئے تمام معاشرہ میں کہیں کوئی یتیم توجہ کے بغیر نہیں رہنا چاہئے۔پھر فرمایا: وَ يَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْيَتَّى قُلْ إِصْلَاحُ لَهُمْ خَيْرٌ ۖ وَ إِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَ اللهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحُ وَلَوْشَاءَ اللهُ لَاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (البقرة 2: 221 ) کہ اے محمد رسول اللہ ہے یہ لوگ تجھ سے بیتامی کے بارہ میں پوچھتے ہیں تو کہدے کہ ان کی اصلاح ایک بہت اچھا کام ہے۔بہت سے ایسے معاشرے ہیں جہاں یتیم بچے اپنے حال پر چھوڑ دیے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو فرمایا کہ یتیموں کو اس طرح نہ چھوڑ دینا کہ ان کی اصلاح کا کسی کو خیال ہی نہ رہے اگلی نسلوں کی اصلاح ماں باپ کی توجہ کی محتاج ہوا کرتی ہے اس طرح یتیم بھی حق رکھتے ہیں کہ ان کی اصلاح کی جائے تو فرمایا: وَاِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ اور اگرتم انہیں اپنے ساتھ ملا جلا کر اپنے گھر والوں کی طرح رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ان سے غیریت کا سلوک نہ کرو۔یہ کافی نہیں کہ یتیم خانے بناؤ اور ان کیلئے رہنے اور رہائش کی سہولتیں مہیا کر دو۔فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے کو اصلاح کرنے والے کے مقابلہ میں خوب جانتا ہے۔بعض لوگ یتیموں کو اپنے گھروں میں اس لئے رکھ لیتے ہیں کہ ان سے خدمتیں لیں گے اور اس سے ادنی ادنی کام لیں گے، اولاد کے طور پر بلاتے ہیں اور نوکروں اور غلاموں کے طور پر سلوک کرتے ہیں۔تو اس بار یک نظر سے خدا تعالیٰ انسانی فطرت پر نگاہ رکھتا ہے کہ ہر خطرہ کی نشاندہی کرتا چلا جاتا ہے اور متنبہ فرماتا چلا جاتا ہے۔”یقینا اللہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔یتامی کے بارہ میں احسان کی تعلیم : پھر ساری قوم کو متنبہ کیا اور فرمایا: كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ (الفجر 18:89) 66 عملاً تم قیموں سے اکرام کا سلوک نہیں کرتے۔یہ قرآنی ارشاد رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث کی یاد دلاتا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ