عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 115
اسلامی جہاد کے متعلق غلط فهمی 115 ان کی عبادت گاہوں پر حملہ ہو تو ان کا دفاع کریں۔یہ پہلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات سے واضح ہوتا ہے جو آج بھی سینا پہاڑ پر سینٹ کیتھرائن کی خانقاہ میں یوں محفوظ ہے: وشمن کے حملوں سے عیسائی گرجوں، خانقاہوں اور مزاروں کی حفاظت کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔اس سے پہلو تہی کرنے والا اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والا شمار ہوگا اور اپنے مذہب یعنی اسلام (13)،، کیلئے بدنامی کا باعث ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ دیگر مذاہب کے ساتھ احسان سے بھی بڑھ کر ایتا و ذی القربی کا سلوک کریں۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان سے اس سے بھی بڑھ کر محبت رکھتے تھے جتنی کہ ماں اپنے بچے سے رکھتی ہے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف بنی نوع انسان کے بنیادی حقوق کے قیام کے عظیم جہاد کا جھنڈا بلند کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہیں بڑھ کر محبت ، رافت اور رحمت کا نمونہ دکھایا۔خواہ کیسے ہی حالات کیوں نہ پیش آجائیں، ایک مسلمان کو ہرگز یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسروں سے زیادتی کرے۔کسی مجرم کو معاف کر دینا اس سے کہیں بہتر ہے کہ کسی معصوم کو سزا دے دی جائے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جبکہ مسلمان انتہائی کمزوری کے عالم میں تھے، بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشہور جنگجو پہلوان کی طرف سے مدد کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، حالانکہ مسلمانوں کو اس کی اشد ضرورت تھی۔چنانچہ ایک مشہور مشرک جنگجو نے مسلمانوں کی طرف سے ہو کر لڑنے کی پیش کش کی تو صحابہ خوشی سے پھولے نہ سمائے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے اس کی پیشکش ٹھکرا دی کہ راہ مولیٰ میں وہ کسی بھی کافر سے مدد لینے کے روادار نہیں ہیں۔چنانچہ اس شخص نے فوراً کلمہ شہادت پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا۔صاف ظاہر تھا کہ اس نے ایسا صرف لڑائی میں شمولیت کی غرض سے کیا ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نیت پر شک کئے بغیر اس کا یہ دعویٰ قبول فرمالیا۔حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حقیقت کو بخوبی جانتے تھے کہ وہ کسی ذاتی انتقامی جذبے کی تسکین کی خاطر مسلمانوں کے ساتھ مل کر قریش مکہ کے خلاف لڑنا چاہتا ہے۔اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دائرہ اسلام میں قبول فرمالیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً اس غیر متزلزل اصول پر قائم تھے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی دلوں کا حال جانتا ہے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ بنیادی حق عطا فرمایا کہ وہ جو بھی دین رکھتا ہے اس کا اعلان کر سکتا ہے۔