عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 112

112 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم بعض مسلم علماء کا یہ موقف ہے کہ اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کسی بھی نبی کو دین کے معاملے میں جبر روا ر کھنے کا اختیار نہیں دیا گیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا گیا تا کہ دیگر تمام انبیاء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت ثابت ہو۔ظاہر ہے کہ اس دلیل سے تو اس کے برعکس بات ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کم درجے کے حامل انبیاء آزادی ضمیر کے علم بردار ہیں تو عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ان سب گزشتہ انبیاء کی نسبت اس علم کو سب سے زیادہ بلند کرنا چاہئے۔انبیاء علیہم السلام میں بہترین نبی کا بنی نوع انسان کی آزادی کو سلب کر لینا، ان پر ایک احمقانہ الزام ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے داغ شخصیت کی توہین ہے۔قرآن کریم اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَذَكِّرُ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرَةٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَتْ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (الغاشية 22:88 تا 27) ترجمہ: پس بکثرت نصیحت کر۔تو محض ایک بار بار نصیحت کرنے والا ہے۔تو ان پر داروغہ نہیں۔ہاں وہ جو پیٹھ پھیر جائے اور انکار کر دے۔تو اسے اللہ سب سے بڑا عذاب دے گا۔یقیناً ہماری طرف ہی ان کا لوٹنا ہے۔پھر یقینا ہم پر ہی ان کا حساب ہے۔اس غیر مبدل قانون کے پیش نظر کسی بھی نبی نے لوگوں کو جبراً نیکی کی راہ پر نہیں چلایا۔پس وہ سب لوگ جو نیکی یا خدا کے نام پر اس کی خلاف ورزی کی جرات کرتے ہیں وہ جعلی خداؤں کی مانند مستر د کئے جانے کے لائق ہیں کیونکہ ان کا کردار خدا تعالیٰ کے عاجز بندوں کے کردار کے برعکس ہے۔کوئی بھی سچاند ہب آزادی ضمیر کے خلاف اپنے نام پر ہونے والے جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ذمہ دار تو دراصل وہ نام نہاد ملاں ہیں جو نا انصافی کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی منشا کے برخلاف آسمانی تعلیمات میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔حتی کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ زندگی کو تلف کرنے کا اختیار بھی بزعم خود ہی حاصل کر لیتے ہیں۔قرآن کریم ایسے تمام مذاہب کے دفاع میں کھڑا ہے اور ان تمام غلط الزامات سے ان کو بری الذمہ قرار دیتا ہے جو بعد کے ادوار میں آنے والے علماء سو نے عائد کئے تھے۔