عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 68
68 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول مخالفت کی گئی لیکن خود مخالفین کو ہی اس اندھی مخالفت کے نتائج بھگتنا پڑے۔یعنی یا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا یا پھر وہ رفتہ رفتہ ایسے زوال پذیر ہوئے کہ ذکر کے قابل بھی نہ رہے۔قرآن کریم ایسے بہت سے لوگوں کے حالات بیان کرتا ہے جنہوں نے عدل وانصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا۔اس میں آئندہ نسلوں کیلئے عبرت کا سامان ہے۔متنبہ کرنے والا یہ نظام انسان کے ایمان اور عقائد کے تمام پہلوؤں پر محیط اور حاوی ہے۔توحید باری تعالیٰ کیلئے کلیۂ وقف ہو جانے کو ایمان کا بلند ترین مقام کہا جاسکتا ہے جبکہ ایمان کے نچلے درجے پر انسان کا روزمرہ کا طرز عمل ہے جو ایک سچے مومن کو کافر سے ممتاز کرتا ہے۔روزمرہ کے اس طرز عمل کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مومن کو نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو در پیش ہر قسم کے امکانی خطرات کو دور کرنے کی عادت ڈالے۔اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رستے میں پڑی ہوئی کئی ایسی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے جو راہ چلتے ہوؤں کیلئے باعث تکلیف ہو سکتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتباہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی مومن رستہ میں پڑا ہوا ناخن کا نشایا ایسی چیز جو ایک بے خبر آدمی کیلئے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہے ،نہیں ہٹاتا تو اس کا ایمان اسی حد تک کمزور ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا رستہ بھی خطرات سے پر ہے جو آغاز میں چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں۔اسلامی تعلیم کا یہ وہ دلچسپ حصہ ہے جس کا مطالعہ اسلام کے متعلق بحیثیت مجموعی ہمارے علم کو وسعت اور گہرائی عطا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ایک اور موقع پر اسی بارے میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح انسان دیگر اشیا پر اپنا حق رکھتا ہے۔اسی طرح تمام اشیا کے بھی انسان پر حقوق ہیں۔بازاروں ،سڑکوں اور رستوں کے حقوق ہیں جو ان کو استعمال کرنے والوں پر عائد ہوتے ہیں۔بازاروں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ عوامی جگہوں یا سڑکوں پر بلا مقصد کھڑا رہنا اور آمد ورفت میں رکاوٹ کا باعث بننا ناپسندیدہ فعل ہے۔اسی طرح دکانوں وغیرہ کو وسعت دینے کیلئے ناجائز تجاوزات قائم کر لینا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے منافی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے ستر درجات ہیں جن میں سے سب سے چھوٹا درجہ رستوں میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی عادت ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ایمان کا جزو ہو گیا ؟ ذرا سا غور کرنے سے اس میں مضمر حکمت بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے وہ یہ کہ حقیقی ایمان باللہ اس امر کا متقاضی ہے کہ جو حفاظت اور امن خدا تعالیٰ کی