عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 61
انسانی جسم کا اندرونی توازن عدم توازن اور بیماری: 61 اگر انسان اپنی اصل حیثیت پر غور کرے تو اُسے معلوم ہوگا کہ وہ محض ایک مشت خاک ہے۔وہ بلاوجہ اتراتا پھرتا ہے جبکہ وہ کسی بھی چیز کا مالک نہیں ہے۔مالک حقیقی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔انسان کو ایسا کامل جسمانی وجود بخشا گیا ہے کہ صحت کی حالت میں وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اس کا یہ وجود نہایت عظیم اور باریک در بار یک نظام ہائے توازن کا مرہون منت ہے۔لیکن جب وہ بیمار پڑتا ہے تو اس کی بے آرامی ، درد اور تکلیف اس پر اس کی کمزوری اور بے بسی کو آشکار کر دیتی ہے۔تب کہیں جا کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے وجود کا اصل سہارا فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے اور وہی ہے جو ارد گرد پھیلی ہوئی تمام بیماریوں کا لقمہ بننے سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔انسان کو ایک ایسے اندرونی خود کار دفاعی نظام کے ذریعے ہر قسم کی بیماری سے بچایا جاتا ہے جو مسلسل اس کی نگرانی پر مامور ہے۔یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ خواہ جسم کا کوئی چھوٹا سا اور بظاہر غیر اہم دکھائی دینے والا عضو بھی بیمار پڑ جائے جبکہ باقی سارا جسم بالکل تندرست ہو تب بھی انسان کا پورا وجود اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مثال کے طور پر انگلی کی ایک پور سوجی ہو، دانت میں کیڑا لگا ہو یا آنکھ کے پوٹے میں انفیکشن ہو تو یہ بھی انسان کیلئے انتہائی تکلیف اور بے چینی کا موجب بن جاتا ہے۔اس سے بچنے کیلئے بعض لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں حالانکہ تکلیف اور بیماری تو صرف ایک چھوٹے سے محدود حصے میں ہوتی ہے۔دماغ میں رسولی بن جائے تو انسان مرگی جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر نہ صرف خود اذیت کا شکار ہوتا ہے بلکہ اس کا سارا خاندان اور حلقہ احباب بھی تکلیف اٹھاتا ہے۔ایسے مواقع پرہی اللہ تعالیٰ کے احسانات کی پوری طرح سمجھ آتی ہے۔اس کا فضل ہے جو مسلسل ہر ذی روح پر بارش کی طرح برس رہا ہے۔یہ مضامین انہی لوگوں کی سمجھ میں آیا کرتے ہیں جن میں سوچنے سمجھنے اور شکر گزار بندہ بننے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔الغرض تو ازن یعنی عدل کا بگاڑ ہی بیماری کا دوسرا نام ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بڑے بڑے لوگ جنہیں تاریخ کے مختلف ادوار میں عزت و شہرت حاصل تھی، جب بیمار ہوئے تو اپنے تیمار داروں سے مدد کی بھیک مانگا کرتے تھے جوان کی کسی بھی قسم کی مد کرنے سے قاصر تھے۔بڑے بڑے جابر اور طاقتور بادشاہوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ جب کسی بیماری نے انہیں معذور کر دیا تو وہ اس قدر بے حیثیت دکھائی دیتے تھے کہ ان کے ادنی ترین غلام بھی اس بات پر تیار نہ ہوتے تھے