عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 56

56 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اوّل یہ حدیث نظام انہضام کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ گنجائش کی خوب وضاحت کر رہی ہے۔انسولین کی عدم فراہمی کے علاوہ بھی ذیا بیٹی کی سینکڑوں دیگر وجوہات ہوسکتی ہیں۔پس لبلبہ کے ٹھیک کام کرنے کے باوجود بھی کسی کو ذیا بیطیس کا مرض لاحق ہو جانا عین ممکن ہے۔سائنسدان اب تک ایسے کئی عوامل دریافت کر چکے ہیں جو خون میں شکر کے انجذاب کے پیچیدہ نظام کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔تاہم آخری نتیجہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ مکمل متوازن غذا یا بالفاظ دیگر عدل پر زور دیا جاتا ہے۔کیلشیم: کیلشیم بھی جانوروں کو صحت مند رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔اگر کیلشیم کا توازن معمولی سا بھی بگڑ جائے تو ان کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انسانی صحت کے حوالے سے کیلشیم کے توازن میں معمولی سا بگاڑ گلوکوز کی سطح میں عدم توازن سے پیدا ہونے والے خطرات سے کہیں زیادہ مضر ثابت ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات اچانک موت کا باعث بھی بن جایا کرتا ہے۔مویشیوں میں پائی جانے والی ایک عام سی بیماری اس امر کی بخوبی وضاحت کرتی ہے کہ کیلشیم کا مقررہ تناسب میں ہونا جسم کیلئے کس قدر ضروری ہے۔بعض اوقات وائرس یا ماحولیاتی عوامل کے باعث ،مویشیوں میں توانائی کی اچانک کمی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے جو کسان کیلئے بہت تشویش کا باعث ہو جاتی ہے کیونکہ اس کی بظاہر کوئی وجہ دکھائی نہیں دے رہی ہوتی۔مثلاً ایک گائے جو ایک رات پہلے بالکل تندرست تھی اچانک بے جان سی ہو کر گھٹنوں کے بل ایسے گرتی ہے کہ دوبارہ اُٹھ نہیں پاتی۔بخار یا کسی اور بیماری کی کوئی ظاہری علامت بھی موجود نہیں ہوتی اور جانور موت کے منہ میں جارہا ہوتا ہے۔ایک قابل ڈاکٹر ، جلد حل ہو جانے والی کیلشیم کا ٹیکہ لگا کر یقینا اسے بچا سکتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے معجزانہ طور پر اس میں دوبارہ جان پڑ گئی ہو۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیلشیم کا اپنی مطلوبہ سطح کو برقرار رکھنا کس قد راہم بات ہے۔ایک صحت مند انسان کو کیلشیم کی کم سے کم 2۔9 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 4۔10 فیصد مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔(7) بعض اوقات کیلشیم کی سطح میں کمی بھی انسانوں میں مسلسل بڑھتی ہوئی کمزوری کا باعث بن جایا کرتی ہے۔اب تک اس کو سمجھنے کیلئے جو اصول ہمارے علم میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ کیلشیم کی سطح میں کسی قسم کا کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔اس پر کام کرنے والے سائنسدانوں کی کئی نسلیں بھی اس لطیف توازن کو برقرار رکھنے والے تمام ذمہ دار عوامل