عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 55

انسانی جسم کا اندرونی توازن 55 اندرونی طور پر یہ تنبیہ ہو جاتی ہے کہ اب کھانے سے ہاتھ روک لینا چاہئے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کا ایک بڑا حصہ بھوک سے مرجاتا کیونکہ بسیار خور دوسروں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑتے۔عام صحت مند جانوروں میں بھی انسولین کی پیداوار میں کمی بیشی با قاعدہ ایک منظم طریق پر ہوتی ہے۔حالت آرام میں ایک جانور کو بہت کم انسولین درکار ہوتی ہے لیکن جب اچانک وہ متحرک اور فعال ہوتا ہے تو اسی نسبت سے انسولین کی پیداوار بڑھنے لگتی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو کھیلوں اور ورزشی مقابلہ جات میں کسی اعلیٰ معیار کا حاصل کرنا ناممکن ہو جائے بالخصوص اولمپک مقابلوں میں حصہ لینے والے اکثر کھلاڑی تمغہ وصول کرنے سے پہلے ہی اچانک موت کا شکار ہو جائیں گے۔اگر جسم تو انا ہے اور اسے متوازن غذامل رہی ہے تو فضلات کے اخراج کی خاطر گردوں کو اپنا کام سرانجام دینے کیلئے مقررہ وزن اور حجم میں ہونا ضروی ہے۔لیکن گردوں میں فضلات کے اخراج کی صلاحیت روزمرہ ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ معمول کا کام سرانجام دینے کیلئے ایک گردے کا آٹھواں حصہ ہی کافی ہوتا ہے۔اچانک لاحق ہونے والی بیماری یا خوش خوراک لوگوں کی بے اعتدالیوں کے باعث اسے کسی اضافی سہارے کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔یہاں احسان اور ایتاء ذی القربیٰ اپنے پورے حسن کے ساتھ کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔اگر انسان اپنے گردوں سے انصاف نہ کرے یعنی عدل سے کام نہ لے اور احسان الہی کو بھی مسلسل نظر انداز کرتا چلا جائے حتی کہ گردہ کا7/8 حصہ کھو بیٹھے، تب بھی وہ ایک صحت مند شخص کی طرح بقیہ زندگی گزار سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس نقصان سے سبق سیکھ کر متوازن غذا کا استعمال شروع کر دے۔چنا نچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر صورتوں میں عدل اور احسان ایک دوسرے کے عمل میں دخل دیئے بغیر ا کٹھے پنپ سکتے ہیں۔تاہم اگر ان دونوں میں ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو احسان کے عمل کو روک دیا جاتا ہے اور عدل جاری و ساری رہتا ہے خصوصاً جب احسان عدل کو قربان کرنے کا متقاضی ہو یعنی جب احسان کرنے کیلئے عدل کو ہاتھ سے دینا پڑے۔جہاں تک احسان، عدل کے ساتھ ساتھ رہ سکتا ہے اسے اپنا کام کرنے کی اجازت ہے۔اگر چہ احسان کا مرتبہ بہت بلند ہے لیکن عدل زیادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور بنیادی اشیاء کو اضافی اور اختیاری اشیاء پر کسی صورت بھی قربان نہیں کیا جاتا۔اسی تعلق میں ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اَلْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِى مِعَى وَاحِدٍ وَّ الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ امْعَاءٍ۔ترجمہ: مومن تو ایک آنت سے کھاتا ہے جبکہ کافرسات آنتوں سے کھاتا ہے۔(6)