عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 52
52 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کے تمام اعضا یکساں مقدار میں شکر استعمال کر سکتے تو کسی اور جگہ زیادہ کھپت کی وجہ سے دماغ کو شکر کی فراہمی کا سلسلہ رک جانے کا خطرہ ہمیشہ لاحق رہتا۔پس ترجیحات کے مابین توازن قائم رکھنے کیلئے جسم میں ایسے غدود موجود ہیں جو دماغ کے علاوہ ہر عضو میں شکر کا استعمال روکنے کیلئے ایک خاص قسم کی رطوبت پیدا کرتے ہیں۔انسانی جسم میں یہ توازن محض ایک جگہ پر ہی نہیں پایا جا تا بلکہ نہایت بار یک در بار یک بے شمار توازن پیدا کئے گئے ہیں اور پھر انہیں قائم بھی رکھا جاتا ہے۔یہ وہ کامل عدل ہے جو انسانی زندگی کی مختلف سطحوں پر لاشعوری طور پر مصروف عمل ہے۔اسے اگر کامل عدل نہ بھی کہا جائے تب بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عدل اور کامل توازن ایک ہی مظہر فطرت کے دو نام ہیں۔بالفاظ دیگر ہم بلا خوف تردید یہ کہ سکتے ہیں کہ کامل صحت دراصل کامل عدل کا ہی دوسرا نام ہے۔انسانی جسم میں شکر کے توازن کے مسئلہ کو بخوبی سمجھنے کیلئے ایک معین مثال پر غور کریں کہ انسانی جسم کو کس قدر شکر کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ سطح کیا ہے۔خون کے ہر 100 ملی لٹر میں کم از کم 60 ملی گرام شکر درکار ہوتی ہے۔اس مساوات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ شکر کی ی سطح 100 ملی لٹر خون میں 180 ملی گرام سے نہیں بڑھنی چاہئے۔(5) اگر یہ اس سے بڑھ جائے تو اس غیر متوازن حالت کو بلڈ شوگر کہا جاتا ہے۔اگر انسولین کے ذریعے یہ توازن قائم نہ رہے تو ضرورت سے زیادہ شکر کو گردوں کے ذریعے جسم سے باہر نکال دیا جاتا ہے تاکہ یہ زائد شکر جسم کی خلیاتی بافتوں کو گلا کر ختم نہ کرنا شروع کر دے۔جب یہ زائد شکر پیشاب کے رستے جسم سے خارج ہونا شروع ہو جائے تو یہ ذیا بیٹس کی وہ قسم ہے جس میں پیشاب میں شکر کی زائد مقدار پائی جاتی ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ گردے بھی اس شکر کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے جس کی وجہ سے خون میں شکر کی سطح خطر ناک حد تک بلند ہو جاتی ہے جس سے بعض اعضا کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔جس طرح تیز اب کسی چیز کو گلا دیتا ہے اسی طرح خون میں شکر کی زائد مقدار سے دل کے والو گل کر ناکارہ ہو جاتے ہیں۔عروق شعری میں جہاں خون کے بہاؤ کی رفتار بہت ست ہوتی ہے یہ زائد از ضرورت شکر جم کر کئی قسم کی بیماریوں اور نقصانات کا پیش خیمہ بنتی ہے۔چنانچہ اگر آنکھوں کی عروق شعریہ یعنی باریک رگوں میں ایسا ہو تو سفید یا کالاموتیا اور آنکھ کی دیگر بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔یہ پیغام رساں اعصاب کی کا ہلی اور سست روی کا باعث بھی بن سکتا ہے جس کا براہ راست نتیجہ دیگر خطرات کے ساتھ ساتھ ان پیغامات کی ترسیل