عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 230
230 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربى - حصه چهارم ہے۔دونوں ہی اپنی سفید فام برتری کو اس بات پر ترجیح دیں گے کہ اشتراکیت زرد فام چین سے متعلق ہو کر دنیا پر غالب آئے۔کسی قیمت پر بھی وہ زرد فام چین کا دنیا پر غلبہ برداشت نہیں کر سکتے۔قرآن کریم کے نزدیک نسل پرستی کی ہر شکل کو دنیا سے نابود کرنا ہوگا۔اس کے بغیر دنیا میں امن قائم کرنا ناممکن ہے۔قرآن کریم کی جو آیت ہم نے اس ضمن میں پیش کی ہے اسکے مطابق باوجود اس کے کہ رنگ اور قومیتیں مختلف ہیں مگر سب انسان بہر حال ایک ہی ماں باپ کی نسل سے منسلک ہیں۔رنگ اور نسل کی تفریق ان کی برتری ظاہر کرنے کیلئے نہیں بلکہ ان کی پہچان کی خاطر ہے۔اگر انسان دوسرے انسان پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے تو صرف تقویٰ کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔کیونکہ ایک متقی انسان ہر دوسرے انسان کو اپنے برابر سمجھتا ہے۔بلکہ جتنا زیادہ متقی ہوگا اپنے آپ کو اور بھی دوسرے سے کمتر سمجھے گا۔مندرجہ بالا استنباط ہم نے اس آیت سے اخذ کیا ہے۔فرمایا: يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرِ وانْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقُكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات 14:49) ہم نے تو تمہیں اس لئے قوموں میں اور فرقوں میں اور مختلف قبیلوں میں تقسیم کیا تھا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو اور یہ تمہاری پہچان کا ذریعہ بن جائیں ہرگز ان باتوں میں کوئی عزت نہیں ہے۔عزت اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے میں ہے۔پس تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ خدا کا خوف رکھتا ہے۔نسلی برابری کا ایک عظیم الشان چارٹر : آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو حجتہ الوداع پر بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ بیان فرمایا۔آنحضرت می فرماتے ہیں: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَّإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌاَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِي عَلَى أَعْجَمِي وَلَا لِعَجَمِي عَلَى عَرَبِيِّ۔وَلَا لَا حُمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا