عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 212
212 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کے کہ ورثاء معاف کر دیں۔اگر وہ خون بہانہ دے تو سب اس کے خلاف کھڑے ہونگے۔اس معاہدہ میں شامل لوگوں میں اگر کوئی جھگڑا ہوگا جس کے فتنہ کا اندیشہ ہو تو اسے و۔خدا اور اس کے رسول محمد کی طرف لوٹایا جائے گا۔+17 ا۔قریش کفار اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔اگر کوئی مدینہ پر حملہ کرے تو شرکاء معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اگر صلح کی پیشکش ہو تو سب شامل ہوں گے۔۱۲۔مومنوں پر بھی پابندی ہے کہ وہ شرکاء کے ایسے حقوق مانیں اور ادا کریں سوائے اسکے جو دین کی خاطر جنگ کرے۔۱۳۔اس معاہدہ سے ظالم یا گنہگار کوکوئی پناہ نہیں ملے گی۔الد مدینہ سے باہر جانے والا بھی امن کا حق رکھتا ہے اور مدینہ میں رہنے والا بھی۔۱۵۔جو نیکی اختیار کرے گا خدا اس کا ساتھی ہے اور محمد رسول اللہ بھی“۔اس معاہدہ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکومت کی قانون سازی نہیں بلکہ معاہدہ کی شقیں ایسی ہیں جو معاشرت کے اصولوں کے مطابق ہیں چنانچہ اس کا مرکزی نکتہ اس بات میں ہے کہ اگر یہود اس معاہدہ میں شامل ہوں تو ان کو بھی مومنوں جیسے حقوق حاصل ہونگے۔اس معاہدہ کی رُو سے ہر شریک معاہدہ خواہ وہ مدینہ میں رہے یا مدینہ کو چھوڑ کر باہر کہیں بسنے کیلئے چلا جائے ، برابر امن کا حقدار ہوگا۔معاہدہ کے شرکاء کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ ان کے معاملہ میں دخل دیں۔یہ میثاق ایک ایسا چارٹر ہے جو آئندہ زمانہ میں بھی تمام جھگڑے والی قوموں کیلئے ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔اس معاہدہ کی رُو سے اس بات کا کوئی جواز نہیں رہتا کہ بڑی اور طاقتور قوموں کو چھوٹی اور کمزور قوموں کے مقابلہ پر اپنا فیصلہ ٹھونسنے کا کوئی حق دیا جائے۔جو قوم بھی کسی دوسری قوم پر ظلم کرنے سے باز نہ آئے اس کے خلاف باقی سب قوموں کو جو اقوام متحدہ میں شامل ہوں، اجتماعی کارروائی کرنی پڑے گی۔یعنی ایسی صورت میں سب پر برابر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اکٹھے ہو کر دونوں جھگڑنے والی قوموں کو سمجھائیں کہ فوری طور پر مخالفانہ کاروائیاں بند کر دیں۔اس کے بعد دونوں کا فرض ہے کہ اپنے جھگڑے باہم طے شدہ ثالثی کے ذریعہ طے کروائیں۔اس معاہدہ پر عمل درآمد کے طریق میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ایک اسوہ ہے جو اس معاہدہ کی