عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 211

غیروں سے معاہدات 211 اپنی الگ بستیاں بنالیں جہاں سے بلا روک ٹوک مکہ سے شمال کی طرف جانے والے قافلوں پر حملے کرتے تھے۔چنانچہ ان بھاگنے والوں نے اہل مکہ کی زندگی اجیرن کر دی۔میثاق مدینہ معاہدہ کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہر وہ فریق جو معاہدہ میں شریک ہو، خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو، اسے برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔میثاق مدینہ اس قسم کے معاہدہ کی ایک نمایاں مثال تھی۔اس معاہدہ کی اہم شرائط یہ تھیں۔ا۔قریش مہاجر اور مدینہ کے انصاری اہل مدینہ جوان کے ساتھ اس عہد میں شامل ہوں گے کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو جائے تو مدینہ کے دفاع میں وہ سب اکٹھے ہو جائیں گے۔یہ سب لوگ اختلاف مذہب کے باوجود ایک ہی امت شمار ہوں گے۔اس معاہدہ کی پہلی شق کی بقیہ شرائط نہیں لکھی جار ہیں کیونکہ ان کا زیر نظر مضمون سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔نہیں بنے گا۔کوئی مومن اپنے مومن بھائی کی مرضی کے بغیر اس کے مولیٰ غلام یا دوست کا حلیف مومن لوگ ان میں سے جو بھی ظلم کرے گا یا جو گناہ کی بات کرے گا یا عدوان کرے گا یا مومنوں کے درمیان فساد پیدا کرے گا سب اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے خواہ ایسا کرنے والا انکا باپ ہی کیوں نہ ہو۔۴۔خلاف مددکر لگا۔۵۔حصہ پائے گا۔۔کوئی مومن کسی مومن کو کافر کی خاطر قتل نہیں کریگا اور نہ ہی کسی کافر کی کسی مومن کے خدا کی امان سب کیلئے برابر ہے۔ان میں سے حقیر ترین شخص بھی اس میں سے اپنا یہود میں سے جو اس معاہدہ میں شامل ہوگا اس کو بھی مومنوں جیسے حقوق حاصل ہوں گے۔نہ ان پر ظلم ہوگا، نہ ان کے خلاف کسی کی مدد کی جائے گی۔سب مومنوں کے امن کی حالت ایک جیسی ہی ہے۔کوئی مومن اپنے مومن ساتھی کو چھوڑ کر اپنے دشمن کے ساتھ صلح نہیں کریگا۔اگر ان میں کوئی غلطی سے کسی مومن کو قتل کر یگا تو اسے خون بہادینا ہو گا سوائے اس