عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 189

بندہ سے خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاهدات 189 اعتراض کا جواب دینے کی توفیق عطا ہوئی۔ایک بہائی نے اٹھ کر مجھے چیلنج کیا کہ تم کہتے ہو کہ قرآن کریم توحید کامل کو پیش کرتا ہے میں اسکا نقص بتا تا ہوں۔دیکھو قرآن میں لکھا ہے" إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ “ کہ اے محمد! جو تیری بیعت کر رہے ہیں وہ اللہ کی بیعت کر رہے ہیں۔یعنی تو اللہ ہے۔اس نے کہا کہ دیکھو جو وہم تھا کہ یہ مجازی کلام ہے اسے آگے چل کر دور کر دیا اور یہ کہہ دیا یدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ “ کہ یہ لوگ جو محمد کی بیعت کر رہے ہیں ان پر محمد کا نہیں بلکہ اللہ کا ہاتھ ہے۔حالانکہ وہ ہاتھ محمد مصطفی ﷺ کا ہی ہاتھ تھا۔تو اسکو پھر میں نے تفصیل سے مضمون سمجھایا اور امید رکھتا ہوں کہ اسے سمجھ آ گئی ہوگی۔لیکن اردگرد کے جو دوسرے لوگ تھے ان کو یقینا سمجھ آ گئی تھی کہ یہ شرک کے خلاف تعلیم دینے والی آیت ہے، شرک کی طرف مائل کرنے والی نہیں۔کیونکہ اگر کوئی انسان خدا کے نام پر کسی ایسے بندہ سے عہد کر لیتا ہے جسے خدا نے مقرر نہیں فرمایا تو اس نے گویا ایک خدا گھڑ لیا۔اس مضمون کو بڑی لطافت سے دیگر انبیاء کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا۔چنانچہ سب سے پہلا نبی جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے وہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں جن سے سلسلہ نبوت اور سلسلہ بیعت کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے یہ سوال اس موقعہ پر اٹھا کہ اگر آدم کی اطاعت کی جائے تو کیوں کی جائے جبکہ وہ انسانوں میں سے ایک انسان تھا۔قرآن کریم اسکا جواب یہ دیتا ہے کہ آدم کو في ذات یہ حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے بندہ کی گردن اپنے سامنے جھکائے بلکہ اسے یہ حق اس وقت حاصل ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ اس سے کلام فرمائے اور اسے مامور کر دے۔پس آدم کی اطاعت دراصل فی نفسہ آدم کی اطاعت نہیں بلکہ امر اللہ کی اطاعت ہے۔اگر یہ نہ ہو تو پھر آدم کی اطاعت کسی پر فرض نہیں رہتی۔اس وضاحت کے بعد اگر ان آیات کا مطالعہ کریں جن میں آدم کو سجدہ کرنے کا ذکر ملتا ہے تو ان کے منطوق اور مفہوم کو آپ زیادہ آسانی اور صراحت سے سمجھ سکیں گے۔چنانچہ فرمایا: إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (ص 38 : 72-73) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں گیلی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔پس جب میں اسے مکمل کرلوں اور اس میں اپنا کلام ڈال دوں تو تم لوگ فرمانبرداری کے ساتھ اس کے آگے جھک جاؤ۔