عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 188

188 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم 20۔بندہ سے خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاہدات اب معاہدات کی بات کرتے ہیں۔جہاں تک معاہدات کا تعلق ہے اس مضمون کو بھی خدا تعالیٰ نے بڑی وضاحت اور وسعت کے ساتھ روشن فرما دیا ہے۔قرآن کریم کی آیات میں ایک ایسی عظیم الشان ترتیب ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے اور نہایت حسین پیرائے میں باہم منسلک اور مربوط ہے۔فرمایا: اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُتُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْ فِى بِمَا عُهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيْهِ أَجْرًا عَظِيمًا (فتح 11:48) یقیناً وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔اللہ کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھ پر ہے۔پس جو کوئی عہد توڑے تو وہ اپنے ہی مفاد کے خلاف عہد توڑتا ہے اور جو اُس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے باندھا تو یقیناً وہ اسے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔اس میں پہلی قابل غور بات تو یہ ہے کہ جسے ہم بیعت کہتے ہیں کیا ایک انسان کو خدا کے نام پر کوئی معاہدہ کرنے کا حق ہے یا نہیں۔کیونکہ جس کے ساتھ معاہدہ کیا جاتا ہے اسکا صاحب اختیار ہونا لازمی ہے۔بغیر صاحب اختیار ہونے کے کوئی کیسے معاہدہ کر سکتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم کا آپ مطالعہ کریں تو اوّل سے آخر تک انبیاء کے صاحب اختیار ہونے کا مضمون پہلے چھیڑا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ جب تم انبیاء کی بیعت کرتے ہو، انکو تسلیم کرتے ہو تو اس لئے نہیں کہ ان کو اپنی ذات میں حق ہے کہ تم سے کوئی معاہدہ کریں۔کسی فرد بشر کو کوئی حق نہیں ہے کہ خدا کے نام پر کوئی معاہدہ کرے یہ حق صرف خدا کو ہے۔اسلئے جب وہ کسی کو مقرر فرماتا ہے تو اسکی بیعت کرنا بظاہر ایک بندہ کی بیعت کرنا دکھائی دیتا ہے لیکن دراصل بیعت کرنے والا خدا کی بیعت کر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ اگر وہ خدا کی بیعت نہیں ہے تو وہ شرک ہے پس اس آیت کے مضمون کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں بعض لوگوں نے اسپر شرک کی تعلیم کا الزام لگا دیا ہے حالانکہ یہ شرک کی کلی تا نفی کرنے والی آیت ہے۔چنانچہ بہائی اس آیت پر اعتراض کرتے ہیں اور خود مجھے بھی ایک دفعہ ایک مجلس میں اس