عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 179
ايك نئی قسم کی شهادت 179 مفسرین نے اس کی مختلف تشریحات کی ہیں جو دورانِ تلاوت ایک لفظ پر زور دینے سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر چہ کتاب (قرآن کریم میں کوئی شک و شبہ نہیں اور ویسے ہی ہوگا جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ صرف متقیوں کو ہدایت دے گی۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے جس کا اطلاق نہ صرف کتب پر ہوتا ہے بلکہ نبیوں پر بھی ہوتا ہے۔یہ اس لحاظ سے بھی آفاقی ہے کہ اس کا اطلاق دنیاوی عدالتوں پر بھی اسی طرح ہوتا ہے۔اگر چه قرآنی بیان کے مطابق تمام دنیا کے دیگر بانیان مذاہب نے رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے حق میں پیشگوئیاں ضرور کی تھیں لیکن عملاً یا ان کی پیشگوئیوں کے مصداق کسی اور کو سمجھا گیا یا ان کے الفاظ ایسے مہم تھے کہ گویا کسی کے آنے کی پیشگوئی تھی ہی نہیں۔عملاً قرآن کا ان کی تصدیق کرنا ان کے کسی احسان کی وجہ سے نہیں تھا جس کا بدلہ اتارا جا رہا ہو۔اسکے برعکس دیگر مذاہب نے اگر اسلام کے حق میں گواہی دی بھی تو ساتھ یہ شرط عائد نہیں کی کہ اگر تم نے اسے قبول نہیں کیا تو تمہارا اس مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہیگا۔پس ایک یہودی یا عیسائی اگر محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار کرتا ہے تو پھر بھی وہ یہودی یا عیسائی رہتا ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک مسلمان موسیٰ علیہ السلام یا عیسی علیہ السلام کا انکار کر رہا ہو تو پھر بھی مسلمان رہے۔پس اسلام کا شہادت کا یہ نظام ایک نہایت ہی حسین وسعت بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک دلکش تو ازن بھی۔عدل کا بھی ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ پیش کرتا ہے اور احسان کا بھی۔دیگر تمام مذاہب یا تو ایک دوسرے کے وجودہی سے بے خبر ہیں یا کم سے کم ان کے ذکر سے کلیہ خالی پڑے ہیں۔یا پھر ایسے اصول اپنا چکے ہیں کہ جنکی رو سے ان کے ماننے والے اپنا یہ فرض سمجھتے ہیں کہ دوسرے مذاہب کے بانیان کو اور انکی مذہبی کتب کو اور ان کے ماننے والوں کو جھوٹا ما نہیں۔آنحضرت ﷺ کے حق میں ماضی کی شہادت کے علاوہ مستقبل کی شہادت: اب ایک اور شہادت کا مضمون شروع ہو جاتا ہے جو حسب ذیل آیت میں مذکور ہے۔فرمایا: أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيْنَةٍ مِنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدُ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتُبُ مُوسَى اِمَامًا وَ رَحْمَةً ( ہود 18:11) پس جو کوئی بھی اپنے رب کی طرف سے کھلے کھلے نشان پر ہو اور اس کے پیچھے اس کا ایک گواہ بھی آنے والا ہو اور ( پھر ) اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بطور امام اور رحمت موجود ہو ( تو کیا تم اسے جھٹلا دو گے)۔