عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 149
امانت اور احتساب 149 (37) کیسے دیں گے؟ جواباً آپ نے فرمایا کہ میں تو سچی گواہی دوں گا خواہ میرے بیٹے اور خاندانی جائداد کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔وکیل نے یہ بات سن کر فیصلہ کر لیا کہ اس مقدمہ کی مزید پیروی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔چنانچہ اس نے اس مقدمے کی پیروی چھوڑ دی۔جماعت احمدیہ کی بنیادرکھنے سے پہلے جب آپ کی عمرتقریبا پچھیں تمہیں برس تھی اور آپ اپنے والد ماجد کے حکم کے مطابق آبائی جائداد کی دیکھ بھال کرتے تھے تو ان دنوں آپ کے والد اور مزارعین کے مابین ایک درخت کے کاٹنے پر تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔آپ کے والد محترم نے آپ کو دو گواہوں کے ہمراہ مقدمہ کی پیروی کیلئے گورداسپور بھیجا۔آپ نے اپنے دونوں ساتھیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ والد صاحب بلا وجہ اسے ایک مسئلہ بنا رہے ہیں۔درخت بھی تو کھیت کا حصہ ہی ہوتے ہیں مزار عین غرباء ہیں اگر انہوں نے ایک درخت کاٹ بھی لیا ہے تو کیا حرج ہے؟ میں یقین سے نہیں کہ سکتا کہ یہ درخت ہماری ملکیت تھا۔البتہ یہ ممکن ہے کہ ہمارا بھی اس میں حصہ ہو۔مخالفین بھی آپ کی صداقت پر یقین رکھتے تھے چنانچہ مجسٹریٹ کے دریافت کرنے پر انہوں نے بلا توقف ، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا کہ ہماری بجائے آپ مرزا صاحب سے دریافت فرمالیں ، وہ آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں گے۔چنانچہ آپ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ” میرے خیال میں درخت کھیت کا حصہ ہیں اور اس کھیت میں ہم بھی حصہ دار ہیں اور کا شتکار بھی۔یہ شہادت سنتے ہی مجسٹریٹ نے مزارعین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔جب اس سارے واقعے کی اطلاع آپ کے والد کو ہوئی تو بہت چیں بہ جبیں ہوئے اور سٹپٹاتے ہوئے بولے ”ملاں ! ملاں! میرا بیٹا تو مولوی ہے یعنی وہ ضرورت سے زیادہ ہی مذہبی ہے اس لئے اس کو اس احمقانہ حرکت کی سزا ضرور ملنی چاہیئے۔چنانچہ انہوں نے آپ کو گھر سے نکال دیا۔آپ کی والدہ ماجدہ آپ کیلئے وہاں کھانا بھجوایا کرتی تھیں جہاں آپ پناہ گزین تھے۔علم ہونے پر آپ کے والد ماجد نے آپ کی والدہ کو کھانا بھجوانے سے منع کر دیا۔لہذا قادیان میں کچھ عرصہ تکلیف اٹھانے کے بعد آپ بٹالہ تشریف لے گئے جہاں نہایت کسمپرسی کی حالت میں آپ نے دو ماہ گزارے۔بالآخر آپ کے والد محترم کے دل میں پدری رحم نے جوش مارا اور انہوں نے آپ کو قادیان واپس بلوالیا۔ایک مرتبہ کسی شخص نے اپنے گھر سے ملحقہ زمین پر ایک چبوترہ تعمیر کر لیا جو در حقیقت خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ملکیت تھی لیکن چونکہ سالہا سال سے وہ آدمی اس پر قابض تھا اور اسے استعمال کر رہا تھا اس لئے عملاً وہ اسی کی ملکیت متصور ہوتی تھی۔چنانچہ آپ کے بڑے بھائی *(38)