عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 139
عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کا مقام اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔تم سے پہلے لوگ اس لئے تباہ کر دیئے گئے کہ وہ عبادات میں اپنی طاقت سے بڑھ کر مجاہدے کر کے زبر دستی خدا کو راضی کرنے کی کوشش کرتے تھے ،، (28) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید فرماتے ہیں: تم اللہ تعالیٰ کو ہر گز نہیں تھکا سکتے۔مت خیال کرو کہ عبادت میں ایسی انتہا پسندی کے ذریعے تم اس پر کسی قسم کا تفوق پالو گے۔سوصابر بنو اور اسی قدر عبادت کرو (29)۔۔139 جس قدر آسانی سے کر سکتے ہو۔ایک مرتبہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین صحابہ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ کثرت عبادت سے حکما روکنے میں کیا حکمت ہے؟ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ: " حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک مقدس انسان ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوتو اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل رحم کی ضمانت دے رکھی ہے۔لیکن ہم جیسے گنہگاروں کیلئے چونکہ ایسی بخشش کی کوئی ضمانت نہیں ہے اس لئے ہم جتنی زیادہ عبادت کریں گے اسی قدر بخشش کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔اس انداز سے بحث کے بعد ان میں سے ایک نے یہ عہد باندھا کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی رات بھر عبادت میں گزار دے گا۔دوسرے صحابی نے عہد کیا کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں ہمیشہ روزہ رکھے گا اور تیسرے نے تجرد کی زندگی بسر کرنے کا مصمم ارادہ باندھ لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہاری نسبت اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہوں لیکن میں تو رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔میں روز ہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔پس جو کوئی میری سنت کی پیروی نہیں کرتا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔(30) دوسرا کوئی بھی مذہب واضح طور پر یہ حکم نہیں دیتا کہ نیکی اور عدل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔اعمال صالحہ بجالاتے ہوئے ہمیشہ تو ازن قائم رکھنے کی جدو جہد بھی کرنی چاہئے۔حد سے آگے نکل